کشتیءنوح — Page 43
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳ کشتی نوح کیا مجال کہ وہ کسی مجرم کو سزا دے سکے یا موسی کے زمانہ کی نافرمان قوم کی طرح طاعون سے ہلاک کر سکے یا قوم لوط کی طرح ان پر پتھر برسا سکے یا زلزلہ یا بجلی یا کسی اور عذاب سے نافرمانوں کو نابود کر سکے کیونکہ ابھی خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں پس چونکہ عیسائیوں کا خدا ایسا ہی کمزور ہے جیسا کہ اس کا بیٹا کمزور تھا اور ایسا ہی بے دخل ہے جیسا اس کا بیٹا بے دخل تھا تو پھر اُس سے ایسی دعائیں مانگنا لا حاصل ہیں کہ ہمیں قرض بخش دے اُس نے کب قرض دیا تھا جو بخش دے کیونکہ ابھی تک تو اس کی زمین کی بادشاہت نہیں جب کہ اس کی زمین پر بادشاہت ہی نہیں تو زمین کی روئیدگی اُس کے حکم سے نہیں اور زمینی چیزیں اس کی نہیں بلکہ خود بخودہی ہیں کیونکہ اُس کا زمین پر حکم نافذ نہیں اور جبکہ زمین پر وہ فرمانروا اور بادشاہ نہیں اور کوئی زمینی آسائش اُس کے شاہانہ حکم سے نہیں تو اُس کو سزا کا نہ اختیار ہے نہ حق حاصل ۔ لہذا ایسا کمزور اپنا خدا بنانا اور اس سے زمین پر رہ کر کسی کارروائی کی امید رکھنا حماقت ہے کیونکہ ابھی اُس کی زمین پر بادشا ہی نہیں لیکن سورۃ فاتحہ کی دعا ہمیں سکھلاتی ہے کہ خدا کو زمین پر ہر وقت وہی اقتدار حاصل ہے جیسا کہ اور عالموں پر اقتدار حاصل ہے اور سورۃ فاتحہ کے سر پر خدا کے اُن کامل اقتداری صفات کا ذکر ہے جو دنیا میں کسی دوسری کتاب نے ایسی صفائی سے ذکر نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ رحمان ہے وہ رحیم ہے وہ مَالِكِ يَوْمِ الدین ہے پھر اس سے دعا مانگنے کی تعلیم کی ہے اور دعا جو مانگی گئی ہے وہ مسیح کی تعلیم کردہ دعا کی طرح صرف ہر روزہ روٹی کی درخواست نہیں بلکہ جو جو انسانی فطرت کو ازل سے استعداد بخشی گئی ہے اور اس کو پیاس لگا دی گئی ہے وہ دعا سکھلائی گئی ہے اور وہ یہ ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے یعنی اے ان کامل صفتوں کے مالک اور ایسے فیاض کہ ذرہ ذرہ تجھ سے پرورش پاتا ہے اور تیری رحمانیت اور رحیمیت اور قدرت جزا سزا سے تمتع اٹھاتا ہے تو ہمیں گزشتہ راست بازوں کا وارث بنا اور ہر ایک نعمت جوان کو دی ہے ہمیں بھی دے اور ہمیں بچا کہ ہم نا فرمان ہو کر مورد غضب نہ ہو جائیں اور ہمیں بچا کہ ہم تیری مدد سے الفاتحة : ٧،٦