کشتیءنوح — Page 45
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵ کشتی نوح نہ بے محل اور بے موقع اور ساتھ اس کے یہ بھی یادرکھو کہ حقیقی اخلاق فاضلہ جن کے ساتھ نفسانی اغراض کی کوئی زہریلی آمیزش نہیں وہ اوپر سے بذریعہ روح القدس آتے ہیں سو تم ان اخلاق فاضلہ کو محض اپنی کوششوں سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم کو اوپر سے وہ اخلاق عنایت نہ کئے جائیں اور ہر ایک جو آسمانی فیض سے بذریعہ روح القدس اخلاق کا حصہ نہیں پاتا وہ اخلاق کے دعوئی میں جھوٹا ہے اور اس کے پانی کے نیچے بہت سا کیچڑ ہے اور بہت سا گو بر ہے جو نفسانی جوشوں کے وقت ظاہر ہوتا ہے سوتم خدا سے ہر وقت قوت مانگو جو اُس کیچڑ اور اُس گوبر سے تم نجات پاؤ اور روح القدس تم میں کچی طہارت اور لطافت پیدا کرے یا درکھو کہ بچے اور پاک اخلاق راستبازوں کا معجزہ ہے جن میں کوئی غیر شریک نہیں کیونکہ وہ جو خدا میں محو نہیں ہوتے وہ اوپر سے قوت نہیں (۴۲) پاتے اس لئے اُن کے لئے ممکن نہیں کہ وہ پاک اخلاق حاصل کر سکیں سو تم اپنے خدا سے صاف ربط پیدا کرو ۔ ٹھٹھا ہنسی ، کینه وری، گندہ زبانی، لالچ، جھوٹھ ، بدکاری، بد نظری ، بد خیالی ، دنیا پرستی تکبر، غرور، خود پسندی ، شرارت، کج بحثی ، سب چھوڑ دو۔ پھر یہ سب کچھ آسمان سے تمہیں ملے گا۔ جب تک وہ طاقت بالا جو تمہیں اوپر کی طرف کھینچ کر لے جائے تمہارے شامل حال نہ ہو اور روح القدس جو زندگی بخشتا ہے تم میں داخل نہ ہو تب تک تم بہت ہی کمزور اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہو بلکہ ایک مردہ ہو جس میں جان نہیں اس حالت میں نہ تو تم کسی مصیبت کا مقابلہ کر سکتے ہو نہ اقبال اور دولت مندی کی حالت میں کبر اور غرور سے بچ سکتے ہو اور ہر ایک پہلو سے تم شیطان اور نفس کے مغلوب ہو سو تمہارا علاج تو در حقیقت ایک ہی ہے کہ روح القدس جو خاص خدا کے ہاتھ سے اترتی ہے تمہارا منہ نیکی اور راستبازی کی طرف پھیر دے سوتم ابناء السماء بنونه ابناء الارض اور روشنی کے وارث بنو نہ تاریکی کے عاشق تا تم شیطان کی گذرگاہوں سے امن میں آ جاؤ کیونکہ شیطان کو ہمیشہ رات سے غرض ہے دن سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ پرانا چور ہے جو تاریکی میں قدم رکھتا ہے۔ سورۃ فاتحہ نری تعلیم ہی نہیں بلکہ اس میں ایک بڑی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا نے