کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 566

کشتیءنوح — Page xxvii

دعوتِ مباہلہ کا جواب اور مولوی ثناء اﷲ صاحب کی دعوتِ مباہلہ کا حضرت اقدس علیہ السلام نے (صفحہ ۱۲۱۔۱۲۵ جلد ۱۹) تفصیلی جواب دیا اور فرمایا:۔’’اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مر جائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔‘‘ (اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۱۴۸ ) مولوی ثناء اﷲ صاحب کا ایک ناکام مکر ۱۹۲۳ء میں مولوی ثناء اﷲ صاحب نے ’’اعجاز احمدی‘‘ کے عظیم الشان نشان کو مشتبہ کرنے کے لئے یہ چال چلی کہ ایک کتاب ’’شہادات مرزا‘‘ لکھی اور ایک ہزار روپیہ انعام کے ساتھ چھ ماہ اس کے جواب کے لئے مدّت مقرر کی۔کتاب پر ماہ اکتوبر لکھ دیا۔لیکن یہ ظاہر نہ کیا کہ اکتوبر کی کس تاریخ کو شائع ہوئی اور احمدیوں سے اُسے مخفی رکھا گیا اور کسی احمدی کو نہ بھیجی۔اور جب اُس کا دسمبر ۱۹۲۳ء کے آخر میں مجھ راقم الحروف کو علم ہواتو مَیں نے قادیان آ کر اس کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ قادیان میں بھی کسی کو یہ کتابچہ نہیں بھیجا گیا۔جب مجھے کتاب ملی تو مَیں نے چند روز میں اُس کا جواب لکھ کر قائم گنج (یو۔پی) سے مکرم و محترم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کو بھیج دیا۔اُس وقت آپ ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر تھے۔یہ جواب ماہ اپریل ۱۹۲۴ء کے رسالہ میں شائع ہوا اور ’’عرض حال‘‘ کے زیر عنوان آپ نے تحریر فرمایا:۔’’برادر عزیز القدر خواجہ شمس فاضل سیکھوانی انسداد ارتداد ملکانہ میں حسب الارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ایّدہ اﷲ بنصرہ العزیز مصروف ہیں۔وہاں سے آپ دو چار روز کے لئے دارالامان تشریف لائے تو مجھ سے ذکر کیا کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب کے رسالہ ’’شہادات مرزا‘‘ کا ایک دوست نے ریل میں ذکر کیا تھا۔اگر آپ کے پاس ہو تو مجھے دے دیں میں اس کا جواب لکھوں گا۔مَیں نے کہایہاں قادیان میں کسی کے پاس نہیں‘نہ مؤلف نے بھیجا ہے۔خواجہ شمس نے کہااچھا اگر مجھے مل گیا اور ذرا بھی فرصت پائی تو آپ کو جواب لکھ کر بھیج دوں گا۔چنانچہ برادر موصوف نے ۳۱ ؍ جنوری ۱۹۲۴ء کو