کشتیءنوح — Page xxvi
مگر حضرت اقدس علیہ السلام نے بطور پیشگوئی تحریر فرمایا :۔’’دیکھو مَیں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اِس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر مَیں صادق ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مَیں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہو گا کہ مولوی ثناء اﷲ اور اُن کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اردو مضمون کا رد لکھ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ اُن کی قلموں کو توڑ دے گا اور اُن کے دلوں کو غبی کر دے گا۔‘‘ ( اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۴۸ ) اِسی طرح قصیدہ میں آپ فرماتے ہیں فان اک کذّابا فیأتی بمثلھا وان اک من ربّی فیغشی و یثبر پس اگر مَیں جھوٹا ہوں تو ایسا قصیدہ بنا لائے گااور اگر مَیں خدا کی طرف سے ہوں پس اس کی سمجھ پر پردہ ڈال دیاجائے گا اور روکا جائے گا۔(اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۱۵۶ ) میعاد گذر گئی اور علماء سے نہ انفرادی طور پر اور نہ اجتماعی طور پر اس کا جواب بن سکا اور پیشگوئی کے مطابق سچ مچ اﷲ تعالےٰ نے اُن کے دل غبی کر دیئے اور اُن کے قلم توڑ دیئے اور پیشگوئی (مندرجہ اشتہار تریاق القلوب) کہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ایک بڑا نشان ظہور میں آئے گابڑی آب و تاب سے پوری ہو گئی۔مُدّ پر تباہی مقام مُدّ جہاں مباحثہ ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی گئیں اور تکذیب اور استہزاء کا نشانہ بنایا گیا مباحثہ سے پانچ چھ ماہ بعدوہاں طاعون کا سخت حملہ ہوااور دو اڑھائی سو کی آبادی میں سے ایک سو بیس افراد طاعون سے ہلاک ہو گئے اور اس گاؤں کی عورتوں نے ملاّنوں کو سخت سُست کہا کہ انہوں نے مولوی ثناء اﷲ وغیرہ کو بلوا کر مرزا صاحب کے حق میں سخت گوئی کی اور وباء پھیلی (الحکم ۱۷ ؍ مئی ۱۹۰۳ء) اور اس کے متعلق قصیدہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی۔اری ارض مدّ قد ارید تبارھا و غادرھم ربّی کغصن تجذر میں مُد کی زمین دیکھتا ہوں اس کی تباہی نزدیک آ گئی اور میرے ربّ نے ان کو کٹی ہوئی ٹہنی کی طرح کر دیا۔(اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۱۵۶ )