کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxv of 566

کشتیءنوح — Page xxv

اور فرمایا:۔’’اگر اس تاریخ سے کہ یہ قصیدہ اور اردو عبارت اُن کے پاس پہنچے چوداں ۴ ۱ دن تک اِسی قدر اشعار بلیغ فصیح جو اس مقدار اور تعداد سے کم نہ ہوں شائع کر دیں تو مَیں دس ہزار روپیہ ان کو انعام دوں گا۔اُن کو اختیار ہو گا کہ مولوی محمد حسین صاحب سے مدد لیں یا کسی اور صاحب سے مدد لے لیں۔اور نیز اس وجہ سے بھی اُن کو کوشش کرنی چاہئے کہ میرے ایک اشتہار میں پیشگوئی کے طور پر خبر دی گئی ہے کہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک کوئی خارق عادت نشان ظاہر ہو گا اور گو وہ نشان اَور صورتوں میں بھی ظاہر ہو گیا ہے لیکن اگر مولوی ثناء اﷲ اور دوسرے مخاطبین نے اس میعاد کے اندر اس قصیدہ اور اِس اردو مضمون کا جواب نہ لکھا یا نہ لکھوایا تو یہ نشان اُن کے ذریعہ سے پورا ہو جائے گا۔‘‘ (اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۱۴۷) اور اس کتاب کے آخر میں دس ہزا ر روپیہ کے انعام کا اشتہار شائع کیا جس میں آپ نے چودہ ۱۴ دن کی بجائے بیس ۰ ۲ د ن مدت کر دی۔اور فرمایا:۔’’انشاء اﷲ ۱۶؍ نومبر ۱۹۰۲ء کی صبح کو میں یہ رسالہ اعجازاحمدی مولوی ثناء اﷲ کے پاس بھیج دوں گاجو مولوی سید محمد سرور صاحب لے کر جائیں گے اور اِسی تاریخ یہ رسالہ ان تمام صاحبوں کی خدمت میں جو اس قصیدہ میں مخاطب ہیں بذریعہ رجسٹری روانہ کر دوں گا۔۔۔۔۔۔۱۷۔۱۸۔۱۹ ؍ نومبر ۱۹۰۲ء ان دنوں تک بہرحال اُن کے پاس جابجا یہ قصیدہ پہنچ جائے گا۔اب ان کی میعاد ۲۰؍ نومبر سے شروع ہو گی۔پس اِس طرح پر دس دسمبر ۱۹۰۲ء تک اس میعاد کا خاتمہ ہو جائے گا۔پھر اگر بیس دن میں جو دسمبر ۱۹۰۲ء کی دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ مَیں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سِلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلّق کریں۔لیکن اگر اب بھی مخالفوں نے عمداً کنارہ کشی کی تو نہ صرف دس ہزار روپے کے انعام سے محروم رہیں گے بلکہ دس لعنتیں اُن کا ازلی حصہ ہو گا۔‘‘ (اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹، صفحہ ۲۰۴، ۲۰۵ )