کشتیءنوح — Page xxiv
کا جواب لکھ سکتا ہوں۔اس لئے حضرت اقدسؑ نے مناسب خیال فرمایا کہ اِن باتوں کا جواب دیا جائے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔’’اگر مولوی ثناء اﷲ صاحب اس بحث میں خیانت اور جھوٹ سے کام نہ لیتے تو اِس مضمون کے لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی لیکن چونکہ مولوی صاحب موصوف نے میری پیشگوئیوں کی تکذیب میں دروغ گوئی کو اپنا ایک فرض سمجھ لیااس لئے خدا نے مجھے اِس مضمون کے لکھنے کی طرف توجہ دلائی تا سیہ رُوئے شود ہر کہ دروغش باشد‘‘ (روحانی خزائن جلد ۱۹، صفحہ ۱۰۷) اور فرمایا:۔’’ نیز یہ بھی خیال آیا کہ مولوی ثناء اﷲ صاحب سے اگر صرف کتاب اعجاز المسیح کی نظیر طلب کی جائے تو وہ اس میں ضرور کہیں گے کہ کیونکر ثابت ہو کہ ستّر۷۰ دن کے اندر یہ کتاب تالیف کی گئی ہے۔اور اگر وہ یہ حجت پیش کریں کہ یہ کتاب دو برس میں بنائی گئی ہے اور ہمیں بھی دو برس کی مہلت ملے تو مشکل ہو گا کہ ہم صفائی سے ان کو ستّر۷۰ دن کا ثبوت دے سکیں۔ان وجوہات سے مناسب سمجھا گیا کہ خدا تعالیٰ سے یہ درخواست کی جائے کہ ایک سادہ قصیدہ بنانے کے لئے رُوح القدس سے مجھے تائید فرماوے جس میں مباحثہ مدّ کا ذکر ہو۔۔۔سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دُعا میری منظور ہو گئی اور رُوح القدس سے ایک خارق عادت مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں ہی مَیں نے ختم کر لیا۔کاش اگر کوئی اور شغل مجبور نہ کرتا تو وہ قصیدہ ایک دن میں ہی ختم ہو جاتا۔۔۔۔۔۔مباحثہ ۲۹ اور۳۰ ؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو ہوا تھا اور ہمارے دوستوں کے واپس آنے پر ۸؍ نومبر ۱۹۰۲ء کو اس قصیدہ کا بنانا شروع کیا گیااور ۱۲؍نومبر ۱۹۰۲ء کو مع اس اردو عبارت کے ختم ہو چکا تھا۔چونکہ مَیں یقین دل سے جانتا ہوں کہ خدا کی تائید کا یہ ایک بڑا نشان ہے تا وہ مخالف کو شرمندہ اور لاجواب کرے۔اِس لئے مَیں اس نشان کو دس۱۰ ہزار۱۰۰۰ روپیہ کے انعام کے ساتھ مولوی ثناء اﷲ اور اس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔‘‘ (اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۱۴۶ )