کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 566

کشتیءنوح — Page xxii

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ایّام بعثت کا کامل زمانہ ہے) زندہ رہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔اور پھر حافظ صاحب اُسی اشتہار میں لکھتے ہیں کہ اُن کے اس قول کی تائید میں اُن کے ایک دوست ابو اسحق محمد دین نام نے قطع الوتین نام ایک رسالہ بھی لکھا تھاجس میں مدعیانِ کاذب کے نام مع مدّتِ دعویٰ تاریخی کتابوں کے حوالہ سے درج ہیں۔(تحفۃ الندوۃ ، روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۹۲ ) نیز اس اشتہار میں حافظ صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ یہ اقرار لکھ دیں کہ اگر ندوۃ العلماء کے سالانہ جلسہ میں جو ابتدائے ۹؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء سے بمقام امرتسر منعقد ہو گا شریک ہونے والے ہندوستان کے مشاہیر علماء رسالہ ’’قطع الوتین‘‘ میں پیش کردہ نظائر کو صحیح قرار دے دیں تو ایسی صورت میں آپ کو اُسی جلسہ میں توبہ کرنی چاہئے۔آپؑ نے اس مطالبہ کے جواب میں فرمایا کہ ’’میرا ان لوگوں پر حسنِ ظنّ نہیں ہے۔سچی بات یہ ہے کہ میں نہ تو ان لوگوں کو متقی سمجھتا ہوں۔۔۔اور نہ عارفِ حقائقِ قرآن خیال کرتا ہوں۔۔۔پھر مَیں اُن کا حَکَم ہونا کس وجہ سے منظور کروں۔ہاں اگر چند منتخب مولوی اُن میں سے بطور طالب حق قادیان میں آ جاویں تو مَیں زبانی ان کوتبلیغ کر سکتا ہوں۔‘‘ اور لکھا کہ’’ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کی نسبت بے سر و پا حکایتیں لکھی گئی ہیں وہ حکایتیں اس وقت تک ایک ذرہ قابلِ اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعویٰ پر اصرار کیا اور توبہ نہ کی اور یہ اصرار کیونکر ثابت ہو سکتا ہے جب تک اُسی زمانہ کی کسی تحریر کے ذریعہ سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اِسی افترا اور جھوٹے دعویٰ نبوت پر مرے اور اُن کا کسی اُس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھااور نہ وہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے اور ایسا ہی یہ حکایتیں ہرگز ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ ان کی تمام عمر کے مفتریات جن کو انہوں نے بطور افترا خدا کا کلام قرار دیا تھا وہ اب کہاں ہیں۔‘‘ (تحفۃ الندوہ ، روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۹۴ ‘۹۵ ) حافظ صاحب کے اشتہار کا جواب دینے کے بعد آپ نے ندوہ کے علماء پر اتمام حجّت کے لئے اپنے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ کو مع دلائل پیش کیااور قادیان سے ایّام جلسہ میں امرتسر ایک وفد بھیجا جو مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی، مولوی ابو یوسف محمد مبارک صاحب سیالکوٹی، مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ہزاروی، مولوی محمد عبداﷲ صاحب کشمیری اور شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر اخبار الحکم پر مشتمل تھا۔امرتسر پہنچ کر