کشتیءنوح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 566

کشتیءنوح — Page xxiii

وفد کو معلوم ہوا کہ حافظ محمد یوسف صاحب نے ندوہ والوں سے مشورہ کئے بغیر از خود اشتہار شائع کیا تھا۔ندوہ کے سیکرٹری سے اس سے متعلق کوئی اجازت یا مشورہ نہیں لیا گیا تھا۔لہٰذا وفد نے انفرادی رنگ میں لوگوں تک سلسلہ کا پیغام پہنچایا اور تحفۃ الندوہ لوگوں میں تقسیم کر کے اس کی خوب اشاعت کی۔اعجاز احمدی ’’اعجاز احمدی‘‘ ضمیمہ کتاب ’’نزول المسیح‘‘ مرقومہ ۶؍ شعبان ۱۳۲۰ھ مطابق ۸؍ نومبر ۱۹۰۲ء جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اشتہار ہے ۱۵؍ نومبر ۱۹۰۲ء کو شائع کی گئی۔وجہ تالیف مُدّ ،ضلع امرتسر میں ایک گاؤں ہے۔میاں محمد یوسف صاحب احمدی اپیل نویس بکٹ گنج مردان جو اس گاؤں کے رہنے والے تھے جب اُن کے بھائی میاں محمد یعقوب صاحب سِلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تو گاؤں والوں نے اُن کی سخت مخالفت کی اور ان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا تو انہوں نے اپنے بھائی میاں محمد یوسف صاحب کو مردان سے بلوایااور آخر کار گاؤں والوں کے ساتھ یہ طے پایا کہ وہاں ۲۹۔۳۰ ؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو مباحثہ ہواور میاں محمد یوسف صاحب کے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی عبداﷲ صاحب کشمیری کو وہاں بھجوا دیااور دوسری طرف سے مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری مناظر مقرر ہوئے۔مُدّ کی آبادی اُن دنوں دو اڑھائی سو کے قریب تھی مگر ارد گرد دیہات سے شامل ہونے والے غیراحمدیوں کی تعداد چھ سات سو تک پہنچ گئی۔مگر احمدی صرف تین چار تھے۔مباحثہ ہوا۔مباحثہ کے دو دن بعد مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مع اپنے دوستوں کے ۲؍ نومبر ۱۹۰۲ء کو واپس قادیان پہنچ گئے اور مباحثہ کی مفصل روئیداد حضرت اقدس ؑ کو سُنا دی۔مولوی ثناء اﷲ صاحب نے دورانِ مباحثہ میں ایک یہ اعتراض کیا تھا کہ مرزا صاحب کی ساری پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔دوسرے یہ کہا تھا کہ مَیں مرزا صاحب سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔تیسرے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے اس مطالبہ کے جواب میں کہ اگر حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا سمجھتے ہو تو اعجاز المسیح کا جواب کیوں نہ لکھا کہا تھا کہ مَیں چاہوں تو بڑی آسانی سے اس