کشف الغطاء — Page 220
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲۰ کشف الغطاء اگر محمد حسین کو اتنا ہی پوچھا جائے کہ تمہارے اعتقاد کے موافق جب مسیح آسمان سے نازل ہوگا تو بقول تمہارے مسیح خلیفہ تو نہیں ہوسکتا کیونکہ قریش میں سے نہیں تو پھر کون خلیفہ ہو گا جو کفار سے جہاد کرے گا؟ اور بخاری کی حدیث اِمَامُكُمْ مِنْكُمُ سے کون امام مراد ہے تو یہ لوگ ہرگز نہیں کہیں گے کہ امام سے مراد مسیح موعود ہے بلکہ یہی کہیں گے کہ مہدی مراد ہے یعنی وہ شخص جو قریش میں سے ہو گا۔ سو اس سوال سے ان لوگوں کی ساری قلعی کھل جاتی ہے۔ غور کرنا چاہیے کہ جس حالت میں محمد حسین لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِیسی کی حدیث کو صحیح خیال نہیں کرتا اور بخاری کی حديث إمَامُكُمْ مِنْكُمُ کے یہ معنے کرتا ہے کہ اس امام سے مراد مسیح موعود نہیں ہے بلکہ وہ شخص ہے جو قریش میں سے خلیفہ وقت ہوگا تو کیا اس تقریر سے صاف طور پر نہیں کھلتا کہ مہدی کو مانتا ہے اور اس کا منتظر ہے ؟ تو اس صورت میں اس شخص کا کس قدر قابل شرم جھوٹ ہے کہ سرکار انگریزی کو کچھ سناتا ہے اور اپنے گھر میں اعتقاد کچھ رکھتا ہے۔ اگر حکام والا جاہ اس بارے میں مجھ سے اس شخص کی گفتگو کر اویں اور گفتگو کے وقت اس طرح کے ہم جنس دوسرے مولوی بھی پاس کھڑے کرائے جائیں تو فی الفور کھل جائے گا کہ اب تک یہ شخص بر خلاف اپنے دلی اعتقاد کے گورنمنٹ کو دھوکا دیتارہا ہے۔ میرے پاس اس کی ایسی تحریریں موجود ہیں جن کی وجہ سے اس سوال کے وقت اس کی وہ ذلت ہوگی جو اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں جھوٹے کے لئے خدا تعالیٰ سے درخواست کی گئی ہے۔ کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ حضور گورنمنٹ میں اس قدر جھوٹ بولے۔ اگر شخص قریشی خلیفہ کے آنے سے منکر ہوتا جس کو عام لفظوں میں مہدی کہتے ہیں اور میری طرح اسی مسیح کو مانتا کہ جو نہ لڑے گا اور نہ خونریزیاں کرے گا تو بلا شبہ میری طرح اس کے لئے بھی کفر کا فتویٰ لکھا جاتا۔