کشف الغطاء — Page 219
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۱۹ کشف الغطاء اور سرگروہ رہ سکے اور اس پر ایک اور دلیل بھی ہے کہ یہ شخص اپنے اشاعۃ السنه جلد نمبر ۱۲ صفحه ۳۸۰ میں صاف لکھ چکا ہے کہ ” خلافت صرف قریش کے لئے مسلم ہے دوسری قوم کا کوئی شخص خلیفہ نہیں ہوسکتا۔ اب سوچنا چاہیے کہ یہ کیونکر تجویز کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح دوبارہ آویں گے تو وہ بادشاہ ہوں گے کیونکہ وہ تو قریش میں سے نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل میں سے ہے تو پھر بغیر وجود خلیفہ کے لڑائیاں کیونکر ہوں گی اس لئے ان تمام مولویوں کو مانا پڑا ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت ایک قرشی خلیفہ ہونا ضروری ہے جو وقت کا بادشاہ ہو ۔ اسی وجہ سے مہدی معہود کے انکار کرنے سے تمام عقائد ان لوگوں کے درہم برہم ہو جاتے ہیں اور پھر مسیح کا آسمان سے اترنا بھی لغو ٹھہر جاتا ہے ۔ کیونکہ زمین پر کوئی خلیفہ برحق نہیں جس کے ہم رکاب ہو کر مسیح علیہ السلام کا فروں سے لڑیں۔ اسی وجہ سے محمد حسین بدل یقین رکھتا ہے کہ ضرور مسیح کے اترنے کے وقت قریش میں سے مہدی موعود آئے گا جو خلیفہ وقت ہو گا اور مسیح موعود اس کی بیعت کرنے والوں کے ساتھ مل کر حق خدمت ادا کرے گا اسی وجہ سے صحیح بخاری کی یہ حدیث فوج کو که إمَامُكُم مِنكُم ان لوگوں کے نزدیک بقرینہ لفظ امام اور نیز بقرینہ لفظ مِنكُمْ کے مہدی موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے مگر ہمارے نزدیک اس جگہ امام سے مراد مسیح ہے جو روحانی امامت رکھتا ہے ۔ اور یہ رائے ہماری بر خلاف محمد حسین اور اس کے تمام ہم جنس مولویوں کے ہے جو پنجاب اور ہندوستان میں رہتے ہیں کیونکہ یہ لوگ امام کے لفظ سے جو حدیث میں ہے مہدی معہود مراد لیتے ہیں جو قریش میں سے ہوگا اور لڑائیاں کرے گا اور مسیح موعود اس کا مشیر اور صلاح کا ر ہو کر آئے گا مگر خلیفہ وقت مہدی ہوگا۔ غرض یہ لوگ حدیث الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ کے رو سے جس کے غلط معنے ان کے دلوں میں جھے ہوئے ہیں یہی اعتقاد ر کھتے ہیں کہ آخر کار خلافت قریش میں آجائے گی اور اس خلیفہ کا نام محمد مہدی ہوگا جو بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور مذہب کے لئے بہت خونریزیاں کرے گا۔