جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 502

جنگ مقدّس — Page 283

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۱ جنگ مقدس باپ دونوں نہیں رکھتے تھے ۔ اب قریب برسات آتی ہے ضرور باہر جا کر دیکھیں کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں پس اس سے مسیح کی خدائی کا ثبوت نکالنا صرف غلطی ہے۔ ع۔ صرف تو بہ سے بے ادائے ہرجہ کیونکر گناہ بخشے جا سکتے ہیں۔ غ۔ کسی کے گناہ سے خدائے تعالیٰ کا کوئی ہرجہ نہیں ہوتا اور گناہ پہلے قانون نازل ہونے ۱۵ کے کچھ وجود نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا یعنی ہم گناہوں پر عذاب نہیں کیا کرتے جب تک رسول نہیں بھیجتے ۔ اور جب رسول آیا اور خیر وشر کا راہ جتلایا تو اس قانون کے وعدوں اور وعیدوں کے موافق عملدرآمد ہوگا کفارہ کی تلاش میں لگنا ہنسی کی بات ہے کیا کفارہ وعدوں کو تو ڑ سکتا ہے بلکہ وعدہ وعدہ سے بدلتا ہے اور نہ کسی اور تدبیر سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سلمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ہے۔ اور یہ کہنا کہ اعمال حسنہ ادائے قرضہ کی صورت میں ہیں غلط نہی ہے قرضہ تو اُس صورت میں ہوتا کہ جب حقوق کا مطالبہ ہوتا ۔ اب جبکہ گناہ صرف ترک قانون سے پیدا ہوا نہ ترک حقوق سے اور عبادت صرف کتابی فرمانوں پر عمل کرنے کا نام ہے تو نجات عدم نجات کا صرف قانونی وعد و وعید پر مدار رہا۔ ع۔ قرآن کی قسمیں صرف ہنسی کی سی ہیں۔ غ۔ اس کی حقیقت آپ کو معلوم نہیں یہ ایک خاص اصطلاح ہے جو قسموں کی صورت میں اللہ جل شانہ ایک امر بدیہہ کو نظری ثبوت کے لئے پیش کرتا ہے یا ایک امر مسلم کو غیر مسلم کے تسلیم کرنے کے لئے بیان فرماتا ہے اور جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے وہ درحقیت قائم مقام شاہد ہوتی ہے جیسا کہ میں آیت لَا أُقْسِمُ بِمَوقِعِ النُّجُومِ میں مفصل بیان کر چکا ہوں ۔ اگر تفصیل وار دیکھنا ہو تو آئینہ کمالات اسلام کو دیکھیے ۔ بنی اسرائیل : ۱۶ الا نعام : ۵۵ الواقعة : ۷۶