جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 502

جنگ مقدّس — Page 284

۱۸۱ روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۲ جنگ مقدس ع۔ دکھ تین قسم کے ہوتے ہیں۔ غ۔ آپ پر تو یہ ثابت کرنا ہے کہ جو کروڑ ہا حیوانات بغیر الزام کسی گناہ کے ذبح کئے جاتے ہیں وہ اگر مالکیت کی وجہ سے نہیں تو کیوں ذبح ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد کس بہشت میں رکھا جائے گا۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب ڈپٹی عبداللہ اعظم صاحب جناب جو یہ فرماتے ہیں کہ وہ حکم قتل کا اُنہیں لوگوں کے واسطے تھا جنہوں نے ظلم کیا تھا۔ اہلِ اسلام پر ۔ میرا جواب یہ ہے کہ سورہ تو بہ کے رکوع ۴ میں یہ سبب قرار نہیں دیا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ جو ایمان نہ لاوے اللہ پر اور دن قیامت پر اور جو خدا رسول نے حرام کیا ہے اُس کو حرام نہ مانے تو وہ قتل کیا جائے اور اس میں استثناء صرف اہل کتاب کے لئے ہے کہ اگر وہ ایمان لانے کو نہ چاہیں اور نہ تہ تیغ ہوں تو جزیہ گذار اور خوار ہو کر جیتے ر ہیں ۔ ایسی ہی اور بھی آیات جن کا میں نے حوالہ دیا ان میں یہی منشاء پایا جاتا ہے اور ایمان پر امان کا منحصر کرنا گو رعایت ہے لیکن ایمان بالجبر کو اور بھی قائم کرتا ہے کہ وہ شفاعتیں اور بخششیں جو مہلت زمانہ کے واسطے دی گئیں نظیر آپ کے ایمان بالجبر کی نہیں کیونکہ وہ فیصلہ عقبی تک کرتے ہیں ۔ ۲۔ جہاد بانشان سات قوموں سے تھا چنانچہ ان کے نام بھی درج ہیں یعنی بہتی ۔ یوسی وغیرہ ان سے ماسوا جو ملک موعود یا ابراہیم کے درمیان اور بھی بہت سی قو میں تھیں جن کو قتل کا حکم نہیں ہوا مگر یہ کہ اگر وہ اطاعت قبول کریں تو کافی ہے اور اس سے ہماری وہ دلیل اور بھی