جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 502

جنگ مقدّس — Page 266

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۴ جنگ مقدس بے خبر ہے ۔ اب ڈپٹی صاحب اس کے یہ معنی کرتے ہیں کہ گویا اس کو کلام الہی کے سننے کے بعد ایسی جگہ پہنچا دو جہاں سے بھاگ نہ سکے جبکہ انصاف اور فہم کا یہ حال ہے تو نتیجہ بحث کا معلوم ۔ آپ نہیں سمجھتے کہ کلام الہی کے تو یہ لفظ ہیں کہ ثُمَّ ابْلِغُهُ مَا مَنَہ یعنی پھر اس مشرک کو اُس کی جگہ امن میں پہنچا دے۔ اب ایسے صاف اور سید ھے اور گھلے گھلے لفظ کی تحریف کرنا اور یہ کہنا کہ ایسی جگہ پہنچا دو کہ وہ بھاگ نہ سکے اور مسلمانوں کے قبضہ میں رہے کس قدر ایک بدیہی صداقت کا خون کرنا ہے۔ پھر ڈپٹی صاحب اس آیت کو پیش کرتے ہیں کہ جس میں چار مہینے کے گذرنے پر قتل کا حکم ہے۔ اور نہیں سمجھتے کہ وہ تو ان مجرموں کے متعلق ہے جو معاہدوں کو توڑتے تھے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدُ عِنْدَ اللهِ وَعِندَ رَسُولِة ( تو یہ رکوع ۲) جس کا مطلب یہی ہے کہ بعد عہدوں کے توڑنے کے اُن کے قول واقرار کا کیا اعتبار رہا اور پھر فرماتا ہے لَا يَرْقُبُونَ في مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَا ذِمَّةً وأوليك هُمُ الْمُعْتَدُونَ تیم شرک نہ کسی عہد کا پاس کرتے ہیں اور نہ کسی قرابت کا اور حد سے نکل جانے والے ہیں اور پھر فرماتا ہے وَ اِنْ نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَيْمَةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ وَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَ هَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُ وَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ( تو بہ (۲) یعنی اگر یہ مشرک توڑیں قسمیں اپنی بعد عہد کرنے کے اور تمہارے دین میں طعن کریں تو تم کفر کے سرداروں سے لڑو کیونکہ وہ اپنی قسموں پر قائم نہیں رہے تا کہ وہ باز آجائیں کیا تم ایسے لوگوں سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول کو نکال دینے کا قصد کیا اور اُنہوں نے ہی اول ایذا اور قتل کے لئے اقدام کیا ۔ اب تمام ان آیات پر نظر غور ڈال کر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس مقام سے جبر کو کچھ بھی تعلق نہیں بلکہ مشرکین عرب نے اپنے ایذا اور خونریزیوں کو یہاں تک پہنچا کر اپنے تئیں اس لائق کر دیا تھا کہ جیسا کہ اُنہوں نے مسلمانوں کے مردوں کو قتل کیا اور اُن کی عورتوں التوبة : ٦ التوبة : التوبة : ١٠ التوبة : ١٣،١٢