جنگ مقدّس — Page 265
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۳ جنگ مقدس وطنوں سے نکال کر تباہی میں ڈالا اور اُن کے مالوں اور جائدادوں اور گھروں پر قبضہ کر لیا ایسا ہی اُن کے ساتھ بھی کیا جائے لیکن خدا تعالیٰ نے رحم کے طور پر جیسی اور رعائتیں کی ہیں کہ اُن کے بچے نہ مارے جاویں اور اُن کی عور تیں قتل نہ ہوں ایسا ہی یہ بھی رعایت کر دی کہ اگر اُن میں سے کوئی مقتول ہونے سے پہلے خود بخود ایمان لے آوے تو وہ اس سزا سے بچایا جاوے جو بوجہ اس کے پہلے جرائم اور خونریزیوں کے اُس پر واجب ہوتی تھی۔ اس بیان سے سارا قرآن شریف بھرا ہوا ہے جیسا کہ یہی آیت جو پیش کر چکا ہوں صاف صاف بیان فرما رہی ہے اور اس کے ساتھ کی دوسری آیت بھی یعنی الَّذِيْنَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا الله () یعنی وے مظلوم جو اپنے وطنوں سے بے گناہ نکالے گئے۔ طا صرف اس بات پر کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ پھر اس کے بعد یہ آیت پیش کرتا ہوں لعن وقتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الذِينَ كُلَّهُ لِلهِ " یعنی عرب کے اُن مشرکوں کو قتل کرو یہاں تک کہ بغاوت باقی نہ رہ جاوے اور دین یعنی حکومت اللہ تعالی کی ہو جائے۔ اس سے کہاں جبر نکلتا ہے۔ اِس سے تو صرف اس قدر پایا جاتا ہے کہ اُس حد تک لڑو کہ اُن کا زور ٹوٹ جائے اور شرارت اور فساد اُٹھ جائے اور بعض لوگ جیسے خفیہ طور پر اسلام لائے ہوئے ہیں ظاہر بھی اسلامی احکام ادا کر سکیں۔ اگر اللہ جل شانہ کا ایمان بالجبر منشاء ہوتا جیسا کہ ڈپٹی صاحب سمجھ رہے ہیں تو پھر جزیہ اور صلح اور معاہدات کیوں جائز رکھے جاتے اور کیا وجہ تھی کہ یہود اور عیسائیوں کے لئے یہ اجازت دی جاتی کہ وہ جزیہ دے کر امن میں آجائیں اور مسلمانوں کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کریں اور ڈپٹی صاحب موصوف نے جو مامنہ کے لفظ کی تشریح کی ہے وہ تشریح غلط ہے یعنی اس آیت کی جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مشرک قرآن شریف کو سننا چاہے تو اُس کو اپنی پناہ میں لے آؤ۔ جب تک وہ کلام الہی کو سنے پھر اُس کو اُسی کے مامن میں پہنچا دو اور اس آیت کے آگے یہ آیت ہے ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لَا يَعْلَمُونَ (سوره تو به رکوع ۱) یعنی یہ رعایت اس لئے ہے کہ یہ قوم (۱۲۲) الحج : ام الانفال: ۴۰ التوبة : ٦