جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 502

جنگ مقدّس — Page 267

۲۶۵ جنگ مقدس روحانی خزائن جلد ۶ کو سخت بے رحمی سے مارا اور اُن کے بچوں کو قتل کیا۔ وہ اس لائق ٹھہر گئے تھے کہ حضرت موسیٰ کے قانون جہاد کے موافق اُن کی عورتیں بھی قتل کی جائیں اُن کے بچے بھی قتل کئے جائیں (۱۶۷) اور اُن کے جوان و بڈھے سب تہ تیغ کئے جاویں اور ان کو اپنے وطنوں سے جلا وطن کر کے اُن کے شہروں اور دیہات کو پھونکا جائے۔ لیکن ہمارے نبی صلعم نے ایسا نہ کیا بلکہ ہر طرح سے اُن کو رعایت دی یہاں تک کہ باوجود اُن کے واجب القتل ہونے کے جو اپنی خونریزیوں کی وجہ سے وہ اس کے لائق ہو گئے تھے ان کو یہ بھی رعایت دی گئی کہ اگر کوئی ان میں سے اپنی مرضی سے دین اسلام اختیار کرے تو امن میں آجائے۔ اب اس نرم اور پر رحم طریق پر اعتراض کیا جاتا ہے اور حضرت موسی کی لڑائیوں کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ افسوس ہزار افسوس اگر اس وقت انصاف ہو تو اس فرق کا سمجھنا کچھ مشکل نہ تھا۔ تعجب کہ وہ خدا جس نے حضرت موسی کو حکم دے دیا کہ تم مصر سے ناحق بے موجب لوگوں کے برتن اور زیور مستعار طور پر لے کر اور دروغ گوئی کے طور پر ان چیزوں کو اپنے قبضہ میں کر کے پھر اپنا مال سمجھ لو اور دشمنوں کے مقابل پر ایسی بے رحمی کرو کہ کئی لاکھ بچے اُن کے قتل کر دو اور لوٹ کا مال لے لو اور ایک حصہ خدا کا اُس میں سے نکالو اور حضرت موسی جس عورت کو چاہیں اپنے لئے پسند کریں اور بعض صورتوں میں جزیہ بھی لیا جائے اور مخالفوں کے شہر اور دیہات پھونکے جائیں۔ اور وہی خدا ہمارے نبی صلعم کے وقت میں باوجود اپنی ایسی نرمیوں کے فرماتا ہے بچوں کو قتل نہ کر د عورتوں کو قتل نہ کرو۔ راہبوں سے کچھ تعلق نہ رکھو۔ کھیتوں کومت جلاؤ گر جاؤں کو مسمارمت کرو۔ اور انہیں کا مقابلہ کرو جنہوں نے اول تمہارے قتل کرنے کے لئے پیش قدمی کی ہے اور پھر اگر وہ جزیہ دے دیں یا اگر عرب کے گروہ میں سے ہیں جو اپنی سابقه خونریزیوں کی وجہ سے واجب القتل ہیں تو ایمان لانے پر اُن کو چھوڑ دو ۔ اگر کوئی شخص کلام اہی سننا چاہتا ہے تو اُس کو اپنی پناہ میں لے آؤ اور جب وہ سن چکے تو اس کو اُس کی امن کی جگہ میں پہنچا دو۔ افسوس کہ اب وہی خدا مورد اعتراض ٹھہرایا گیا ہے۔ افسوس کہ ایسی عمدہ اور