جنگ مقدّس — Page 263
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۱ جنگ مقدس بتسما پانے میں یسوع نے اپنی مراد آپ ظاہر کر دی ہے یعنی یہ کل راستبازی پوری ہو یعنی متابعت شریعت موجودہ کی کی جائے۔ اور واضح رہے کہ شریعت موسوی اور انبیاء سلف کا عمل عید پینٹی کوسٹ کے دن تک رہا ہے جبکہ مسیح نے جی اُٹھ کر آسمان کی طرف صعود کیا تب سے شریعت عیسوی جاری ہوئی ورنہ پہلے اس کے شریعت سلف کی تھی خلف کا ذکر تک نہ تھا اب پھر جو جناب یوحنا کو بباعث بپتسما دینے یسوع کے بڑا فرماتے ہیں۔ یوحنا خود یہ کہتا ہے کہ میں اُس کے جوتے کا تسمہ کھولنے کے قابل نہیں اور کہ وہ برہ ہے جوسب کے گناہوں کے واسطے ذبح ہوگا۔ وہ جو جناب نے پھر لفظ نیک کے اوپر تکرار کیا ہے اس کا جواب بتکرار دیا گیا ہے۔ اب اور کچھ کہنا ضرور نہیں مگر اس قدر یا د دلانا کافی ہے کہ وہ خطاب جو اُس نے اُس جوان سے فرمایا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے جبکہ نیک سوائے ایک خدا کے کوئی نہیں ۔ اسی شخص سے یہ بھی اخیر میں فرمایا تھا کہ اگر تو کامل ہوا چاہتا ہے تو اپنا سارا مال عاجزوں کو تقسیم کر دے اور میرے پیچھے ہولے لیکن وہ دلگیر ہو کے چلا گیا۔ اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے کہ جانوں اور مالوں سب کا وہ مالک تھا اور وہ جوان نہیں مانتا تھا کہ یہ مالک ہے اس لئے اس کو متنبہ کیا گیا کہ از انجا تو مجھے خدا نہیں جانتا۔ بروئے اعتقاد جمہور یہود کے نیک سوائے خدا کے کوئی نہیں ہو سکتا تو پھر مکاری سے مجھے تو نیک کیوں کہتا ہے یہ اُس کی مکاری کی اصلاح تھی نہ کہ الوہیت سے انکار۔ ے۔ انسان مسیح کا شیطان سے آزمایا جانا کیا نقصان اُس کی الوہیت کو رکھتا ہے انسان ہو کر تو دے امتحان میں کھڑا کیا گیا اور جو آدم اولی گر کر کھو بیٹھا تھا اس نے کھڑا رہ کر پا لیا پھر اس میں اعتراض کی جگہ کون سی ہے اور شریر اپنی شرارت میں مر جائے ۔ پس یہ غلط ہے کہ شریر کو شریر (۱۲۴) بنایا گیا ہے جیسے یہ عام غلطی ہے کہ شیطان کو شیطان بنایا گیا ۔ صحیح یہ ہے کہ شیطان کو مقدس فرشتہ بنایا گیا تھا پھر اس نے گناہ کر کے اپنے آپ کو شیطان بنا لیا اور یہ بھی غلط ہے کہ شریر بنانے اور شریر ہونے دینے کا مال ایک ہی ہے۔ اور وہ بچے کی مثال بھی جو جناب نے دی اس قدر اصلاح کے لائق ہے کہ اگر وہ نیک و بد کی ماہیت سے آگاہ نہیں یا طاقت نیکی کرنے