جنگ مقدّس — Page 262
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۰ جنگ مقدس ۶ ۔ یسوع مسیح نے کبھی اقرار اپنے گناہوں کا نہیں کیا نہ لفظا نہ ضمنا اور نہ اس کے اوپر کبھی یہ فتوی لگا۔ یہ تو سچ ہے کہ قرآن انسان کو صرف جبر یہ ہی نہیں ٹھہراتا بلکہ ایک طرف جبریہ اور دوسری طرف قدریہ یعنی صاحب اختیار لیکن ہمارا کہنا یہ ہے کہ جبر اس میں تقدیم رکھتا ہے۔ اور یہ دو یا ہم متناقض بھی ہیں۔ چنانچہ جبر کے غلبہ کا حوالہ ہم اور آیات سے بھی دیتے ہیں۔ (1) سورۂ نساء کے رکوع ۔ ا میں ہے جس کا حاصل معنے یہ ہیں جو کہتے ہیں کہ بھلائی اللہ کی طرف سے ہے اور برائی تیری طرف سے۔ تو کہہ ان سے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ (۲) پھر سورۂ نساء کے رکوع 11 میں ہے کہ جس کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کو راہ پر نہیں لا سکتے اور اس کے واسطے کوئی راہ باقی نہیں۔ (۳) پھر سورہ مائدہ کے رکوع ۷ میں ہے اگر خدا چاہتا تو ایک ہی دین ہر کو دیتا مگر اس کو آزمانا تمہارا مد نظر تھا۔ پھر سورہ انعام کے لے ارکوع میں ہے کہ کہتے ہیں کہ اگر چاہتا اللہ تو ہم شریک نہ ٹھہرا لیتے ایسا ہی پہلے بھی کافر کہتے رہے۔ ۹۔ انسان کی فعل مختاری پر اطلاق کا لفظ جناب نے غلط لگایا ہے بلکہ وہ اپنی حدود معینہ میں پور افعل مختار ہے۔ میں نے یہ کبھی نہیں مانا جو جناب فرماتے ہیں کہ فعل مختاری میں دخل غیر بھی کچھ ہے اور نہ میں کچھ کج بحثی کرتا ہوں مگر فکر ہر کس بقدر ہمت اوست یہ ضد فعل مختاری اور نا مختاری انسان میں تو صرف قرآن میں ہی پائی جاتی ہے۔ ۱۸ ۱۳ ۱۰۔ سخت دلی فرعون کے معنی ہم بار بار کر چکے ہیں آئیندہ اسکا تکرار عبث ہے۔ ا۔ امثال کے باب میں یہ نہیں لکھا کہ شریر کو شرارت کے واسطے بنا یا گیا مگر بُرے دن کے واسطے ۔ جس کی شرح حز قیل کے اور ا اور پطرس کے دوسرے خط میں اور پہلا طمطا ؤس کے ہم میں یہ لکھا ہے کہ شریروں کو مہلت نجات کی دی جاتی ہے اور خدا کی خوشی اس میں نہیں جیسا کہ قرآن آپ کے نبی کی با بت کہتا ہے کہ واستغفر لذنبك و لـلـمـؤمـنـيـن والـمـؤمـنـات معا في مانگ اپنے گناہوں کے لئے اور مومن مردں اور مومن عورتوں کے لئے ۔