جنگ مقدّس — Page 264
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۶۲ جنگ مقدس اور بدی کرنے کی نہیں رکھتا تو مواخذہ عدل سے بھی بری ہے اُس کا مرنا واسطے جہنم کے نہیں۔ ۱۲۔ جناب نے مجھے دھوکہ باز جو ٹھہرایا ہے اس کے لئے میری طرف سے آپ کو سلام پہنچے اور آپ کے مانگنے بدوں ہی میری طرف سے معافی بھی۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام دستخط بحروف انگریزی۔ ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب حضرت مرزا صاحب ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب نے جس قدر پھر قرآن شریف کی ایسی آیتیں لکھی ہیں جس سے وہ ایمان بالجبر کا نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں۔ افسوس وہ اُن آیات کے پیش کرنے میں ایک ذرہ انصاف سے کام نہیں لیتے ۔ ہم نے صاف طور پر تحریر گذشتہ میں جتلا دیا ہے کہ قرآن شریف میں ہرگز ہرگز جبر کی تعلیم نہیں ہے۔ پہلے کفار نے ابتدا کر کے صدہا مومنوں کو تکلیفیں دیں ۔ قتل کیا۔ وطنوں سے نکالا اور پھر تعاقب کیا اور جب اُن کا ظلم حد سے بڑھ گیا اور اُن کے جرائم خدائے تعالیٰ کی نظر میں سزا د ہی کے لائق ٹھہر گئے تب اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل کی ۔۔ اُذن لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِ لَقَدِيرُ (۱۳۱۷) یعنی جن لوگوں پر یعنی مسلمانوں پر ظلم ہوا اور اُن کے قتل کرنے کے لئے اقدام کیا گیا۔ اب اللہ تعالیٰ بھی انھیں مقابلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پھر چونکہ عرب کے لوگ باعث ناحق کی خونریزیوں کے جو وہ پہلے کر چکے (۱۲۵) تھے اور بری بری ابتداؤں سے مسلمانوں کو قتل کر چکے تھے اس لئے ایک شخصی قصاص کے وہ مستحق ہو گئے تھے۔ اور اس لائق تھے کہ جیسا اُنہوں نے ناحق بے گناہوں کو برے برے عذاب پہنچا کر قتل کیا ایساہی ان کو بھی قتل کیا جائے۔ اور جیسا کہ انہوں نے مسلمانوں کو اپنے الحج : ٤٠