جنگ مقدّس — Page 251
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۹ جنگ مقدس گڈنس کا داؤد نبی نے ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ لکھتا ہے کہ ارے آؤ۔ چکھو ۔ دیکھو کہ یہو بھلا ہے۔ اب عدالت کا کام یہ ہے کہ جس وقت گناہ سرزد ہو وے اس کا تدارک فرمادے اور رحم اس ماقبل نہیں مگر ما بعد اس تدارک و مواخذہ سے رہائی کرنے کو آوے۔ اور جب تک کوئی گناہ صادر نہیں ہوا۔ جو بھلائی اس سے کی جاتی ہے وہ مطابق گڈنس کے کی جاتی ہے اور یہ بھی یادر ہے کہ جو شے عدم سے بوجود آئی ہے اس کا اپنے خالق پر یہ حق ہے کہ اس سے کہے فلانا دکھ مجھ کو کیوں ہوا کہ تو عادل اگر ہے اس بات کا عدل کر ۔ بکری جو ذبح کی جاتی ہے اس کے واسطے یہ عذر کافی نہیں کہ تیرا خالق و مالک ہوں ۔ تھوڑی سی ایڈا میں دوسروں کی معیشت کے واسطے تجھے دیتا ہوں تو ناحق کی شا کی نہ ہو۔ لے ۔ عدل یہ نہیں چاہتا ہے کہ کسی کو ایذا ہو دے جس کا وہ مستوجب نہیں یا کہ وہ ایذا اس کے واسطے (۱۵۲) کچھ زیادہ خوبی پیدا نہ کرے اور اسی لئے ہم نے اقسام دکھ تین بیان کر دئیے ہیں کہ جن کو آپ مٹا نہیں سکتے اور آپ پھر دکھ کو ایک ہی قسم کا تصور فرما کر آپ خالقیت اور مالکیت کے برقعہ میں اس کو ہر لائق و نالائق امر کی اجازت کس طرح دے سکتے ہیں ۔ ہم نے بار بار جناب کو کہا کہ عدالت و صداقت غیر مفید الظہو ر نہیں ہوسکتی ۔ پھر کس لئے نقاضائے عدل کا لحاظ آپ چھوڑتے ہیں کیا آپ کے چھوڑنے سے عدل بھی اس کو چھوڑ دے گا ۔ یقیناً جب تک اس کا تقاضا پورا نہ ہو رحم نہ ہو سکے گا۔ پانزدہم ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں بقول آپ کے عدل کو عدول نہیں فرمایا اور نہ رحم کو عدل پر غالب کیا۔ بلکہ وہاں رحم کا آسرا لوگوں کو دلایا ہے اور یہ بجا ہے۔ باقی جو جناب خوش فہمیاں فرما دیں آپ کا اختیار ہے۔ شانز دہم ۔ یہ تو حق ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے چاہتا ہے کہ وہ ایسا یا ویسا کرے وہ اس کے فائدہ کے لئے بھی ہے ۔ مگر اس سے حقوق الہی کا رد کرنا غلط ہے کیا کچھ حقوق الہی بھی عباد اللہ کے اوپر ہیں ۔ اگر نہیں تو گناہوں میں کیا ہرجہ خدا تعالیٰ کا ہے تو پھر کس لئے وہ شیخ عدل سے اس کو ڈرایا چاہتا ہے۔ جب ہرجہ ہی کچھ نہیں تو پھر سزا کس لئے ہو ۔