جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 502

جنگ مقدّس — Page 252

۱۵۳ روحانی خزائن جلد ۶ ۲۵۰ جنگ مقدس تنبیه پدری واسطے بھلائی پسر کے تو ہوتی ہے لیکن سزا کا لفظ کیا بے معنے مطلق ہے تنبیہ کا مخرج رحم سے ہے اور سزا کا مخرج عدل سے۔ چنانچہ ہم بھی اپنے بچوں کو تنبیہ کرتے مارتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مرہی جائیں۔ اور جب نا خلف کر کے نکال دیں تو اس کا مطلب سزا ہے۔ یہ تیرے اعمال کی پاداش ہے۔ تو پس ان دوامر میں تمیز موجود ہے تو ان کو نظر انداز کس لئے کیا جائے ۔ ہفد ہم ۔ اسلام کی لڑائیاں بہت قسم کی تھیں ہم تسلیم کرتے ہیں چنانچہ دافعیہ۔ انتظامیہ انتظامیہ وغیرہ لیکن جو آیت راب مناظرہ میں ہے اس کی وجہ یہ دی گئی ہے کہ ماروان کو جو اللہ وقیامت کو نہ مانیں اور حرام و حلال کا لحاظ نہ کریں۔ ( باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قا در فصیح پریزیڈنٹ ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام از جانب عیسائی صاحبان بیان حضرت مرزا صاحب ۲ جون ۱۸۹۳ء ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ مظہریت سے پہلے اقنوم ثانی کا علاقہ تھا مگر ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے جب تک وہ انجیل کی صریح عبارت پیش نہ کریں کہ مظہریت بعد میں آئی۔ اور اقنوم ثانی کا پہلے سے علاقہ تھا۔ اور پھر ان کا یہ فرمانا کہ عقل سے امکان تثلیث ہم نے ثابت کر دیا ہے اور کلام سے وقوعہ ثابت ہو گیا ہے۔ یہ دونوں ابھی تک دعوی ہی دعوی ہیں۔ ناظرین ان کے جوابات کی اوراق گردانی کر کے دیکھ لیں کہ کہاں عقل کے رو سے امکان تثلیث ثابت کر دیا ہے؟ عقل کا فیصلہ تو ہمیشہ کلی ہوتا ہے۔ اگر عقل کی رو سے حضرت مسیح کے لئے داخل تثلیث ہونا روا رکھا جائے تو پھر عقل اور وں کے لئے بھی امکان اس کا واجب کرے گی۔ پھر ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ کسی نبی پر بشکل مجسم کبوتر کے روح القدس نازل ہوا۔