جنگ مقدّس — Page 250
۱۵۱ روحانی خزائن جلد ۶ ۲۴۸ جنگ مقدس سے ہو سکتا ہے۔ واضح ہو کہ جیسا ہم قدرت الہی کوحد ود نا مناسب میں قید نہیں کرتے ویسے ہی فعل مختاری انسان کی حدود نا مناسب میں قید نہیں ہو سکتی۔ یاز دہم ۔ پورے اختیار پر دعا بے فائدہ ہے اس کے معنے یہ ہوئے کہ ہم علم و قدرت بھی اس کے ساتھ بے حد ر کھتے ہوں۔ لیکن ہم نے کبھی ایسا دعوی نہیں کیا مگر یہ کہ اس کا علم اور اس کی قدرت اور اس کا اختیار کل محدود ہیں ۔ پس آپ کے فرائض و مسلمات محض خیالی ہیں ۔ دوازدہم ۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ دلوں پر آنکھوں پر مہر کرنا کلام مجازی نہیں تو ہم پر اس کا اعتراض کیا ہے۔ سیز دہم۔ ہم بالکل تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات مستغنی الذات مطلق ہے لیکن وہ وہیں تک آزاد ہے کہ جہاں تک اس کی ساری صفات بالاتفاق اجازت دیں۔ چنانچہ اگر وہ کسی شخص پر ظلم کرنے کو چاہے تو چاہیے کہ عدل اس کا مانع ہوگا یا کسی کے ایڈا ناحق میں وہ خوش ہو دے تو صفت گڈنس کی اس کے مانع ہوگی۔ على هذا القياس بہت ہی صفات متبر کہ اس کی ہیں جو ان کلیو سب ہو کر چل سکتی ہیں اور اکس کلیو سب ہو کر نہیں چل سکتیں جیسا کہ اگر ایک صفت کچھ کام کرتی ہے تو ساری بالاتفاق اس کی ممد ہیں۔ گو ظہور خاص اس ایک کا ہے جو کام کر رہی ہے اور اگر کوئی صفت کام کرتی ہے تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اٹک ہے اور کوئی صفت اس کے ساتھ نہیں اور مخالف ہونا تو نعوذ باللہ دوصفات میں کہیں بھی جائز نہیں کہ ایک دوسری کی مخالف ہو۔ چہار دہم۔ اوّل تو جناب ہمیشہ ان دو صفات کی تمیز کے بارہ میں جو ایک رحم ہے دوسری گڈنس لاعلمی دکھلاتے ہیں ۔ اور تمیز اس میں یہ ہے کہ رحم کسی مواخذہ اور تکلیف پر آتا ہے اور گڈنس صرف اپنے متعلقین کو خوشنود رکھنے کے واسطے ہوتا ہے جیسا کہ اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں پکڑا ہوا ہو دے اس کی رہائی کے واسطے رحم کی صفت ہے اور اگر کوئی اپنے جانوروں کو بھی بہر حال خوش رکھنے چاہتا ہے اور ان غذاؤں سے جن کے وہ لائق ہیں عمدہ تر غذا ئیں وہ ان کو دیتا ہے یہ گڈنس کے باعث ہے۔ چنانچہ اس لفظ