جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 502

جنگ مقدّس — Page 230

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۸ جنگ مقدس اور جو فصاحت بلاغت جدید مطلق ہو دے تو وہ محتاج تلقین کی ہو جاتی ہے اور آسانی کے برخلاف آسان نہیں رہتی۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ بروئے قرآن محمد صاحب اُمی محض نہ تھے بلکہ قرآن میں یوں لکھا ہے کہ جو اہل کتاب نہیں وہ اُمی ہے اور فی الواقع علم عبرانی اور یونانی کا آنجناب کو حاصل نہیں معلوم ہوتا نیز یہ بھی یادر ہے کہ لفظ کتاب کا باصطلاح قرآنی علی العموم بمعنے کتاب الہامی کے ہے کتاب دنیا وی نہیں۔ ۱۳۴ چو تھا۔ جناب نے میرے کل کے ایک سوال کا جواب پورا نہیں دیا جس میں میرا استفسار تھا کہ مسیح کی پیدائش معجزہ ہی تھی یا نہیں یعنی باپ اس کا نہیں تھا یا تھا۔ فرشتہ خاص کر جبرئیل مریم آپ کی والدہ کے پاس خوشخبری لائے تھے یا نہیں۔ اور وہ جو جناب اپنی روایت کا ذکر فرماتے ہیں کہ محمد صاحب سے وہ ہم کلام ہو کے آئے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کا ثبوت جناب کے پیشوا کے معراج سے کچھ زیادہ نہیں معلوم ہوتا۔ نیز یہ بھی ہمارا استفسار ہے کہ جناب یونی ٹیریوں اور رومن کیتھلک کو ہمارے اوپر حاکم کیوں بناتے ہیں وہ مسیحی تو کہلاتے ہیں مگر ہم اُن کو بد معنے مسیحی کہتے ہیں۔ ہمارے آرچ بشپ ڈپٹی صاحب نے جب حلقہ اس طرح کا کھینچا کہ دین مسیح کہاں تک مؤثر ہے تو انہوں نے تو اہل اسلام کو بھی مسیحیوں میں گنا ہے۔ اور دلائل اس کے قرآن سے دیئے ہیں لیکن ہم ان کو صحیح مسیحی نہیں مان سکتے۔ (باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان دستخط بحروف انگریزی غلام قادر صحیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام