جنگ مقدّس — Page 231
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۹ جنگ مقدس بیان حضرت مرزا صاحب یکم جون ۱۸۹۳ء ڈپٹی صاحب اوّل یہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بات کا اقبال نہیں کیا کہ اقنوم ثانی یعنی حضرت مسیح تمیں برس تک مظہر اللہ ہونے سے خالی رہے اس کے جواب میں صرف ڈپٹی صاحب موصوف کی عبارت مرقومہ ۳۱ رمئی ۱۸۹۳ء کو سامنے رکھ دینا کافی ہے اور وہ یہ ہے: ششم ۔ جناب جو پوچھتے ہیں کہ مظہر اللہ سبح بعد نزول روح القدس کے ہوئے یا ما بعد اُس کے ۔ ہمارا اس جگہ پر جواب قیاسی ہے کہ روح القدس کے نازل ہونے کے وقت ہوئے ۔ اب سوچنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ کیا اس عبارت کے بجز اس کے کوئی اور بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ حضرت مسیح روح القدس کے نازل ہونے سے پہلے جو کبوتر کی شکل میں اُن پر نازل ہوا مظہر اللہ نہیں تھے پیچھے سے مظہر اللہ بنے۔ پھر جب مظہر اللہ کی مطلق نفی بغیر کسی استثنا کے ڈپٹی صاحب موصوف نے کر دی تو کیا بجز اس کے کوئی اور بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ حضرت مسیح کبوتر نازل ہونے سے پہلے صرف انسان تھے کیونکہ مظہر اللہ کا لفظ کسی تقسیم اور تجزیہ کے قابل نہیں اور اُن کی عبارت سے ہرگز یہ نکلتا نہیں کہ ۱۳۵ مخفی طور پر پہلے مظہر اللہ تھے اور پھر علانیہ طور پر ہو گئے وہ تو صاف فرما رہے ہیں کہ بعد روح القدس کے مظہر اللہ ہوئے ۔ اب یہ دوسرا بیان پہلے بیان کی تفصیل نہیں ہے بلکہ صریح اس کے مخالف اور اس کا ضد پڑا ہوا ہے اور اقرار کے بعد انکار کرنا انصاف پسندوں کا کام نہیں۔ بلا شبہ وہ اقرار کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح تمیں برس تک مظہر اللہ ہونے سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب تھے کیونکہ ہمارا سوال تھا کہ روح القدس کے نازل ہونے سے پہلے مظہر اللہ تھے یا بعد اس کے ہوئے تو آپ نے قطعی طور پر بعد کو اختیار کیا اور صاف طور پر اقرار کر لیا کہ بعد میں مظہر اللہ بنے ۔ اب اس میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں ۔ جب عام میں یہ سوال پھیلے گا اور پبلک کے سامنے آئے گا تو خود لوگ سمجھ لیں گے کہ ڈپٹی صاحب نے یہ اقرار کے بعد انکار کیا ہے یا کوئی اور صورت ہے اور اب وہ