جنگ مقدّس — Page 229
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۷ جنگ مقدس کا ہمارا الزام ہے۔ موسیٰ کے جہاد اور قسم کے تھے انمیں سے امان منحصر یہ ایمان کوئی نہ دکھلا سکے گا اور یہاں آیت مذکورہ میں نہ دفعیہ کا جہاد ہے نہ انتقام کا جہاد نہ انتظام کا جہاد بلکہ وہ جہاد ہے جو ۱۳۳۶ ہے اصول قرآنی کو نہ مانے وہ مارا جائے اسی کا نام ہے ایمان بالجبر ۔ ہمارے مکرم سرسید احمد خان بہادر نے جہاد بالجبر کو نہیں مانا۔ اُن کا فرمانا یہ ہے کہ یا مانو یا مرو یا جزیہ گذار ہو کر جیتے رہو لیکن بابت تیسری شرط یعنی جزیہ کے ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ متعلق اہل کتاب کے اس لفظ کو کیوں لکھا من الذین میں لفظ من کا فاضل ہے اور اہل کتاب کا لفظ سارے اس کے متن سے مستنی ہے۔ پھر یہ کیا خوش نہی نہیں کہ اس تیسری شرط کو بھی عامہ قرار دیا جائے۔ اور وہ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ جملہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سے سارا اعتراض ایمان بالجبر کا باطل ہو جاتا ہے لیکن اگر ہم دکھلا سکیں کہ قرآن میں یہ حکم بھی ہے کہ اے مسلمانوں جب تمہارے سامنے کوئی سفید پوش آوے اور تم کو سلام علیک کرے تو تم اس کے کپڑے اتار لینے کے واسطے یوں مت کہو کہ تو مکار ہے در حقیقت مسلمان نہیں خدا تم کو دولت اور طرح بہت دے دے گا۔ تو کیا یہ اکراہ نہیں که به بهتان مکاری اُس کے کپڑے اتار لیویں اور کیا یہ پالسی کے برخلاف نہیں جو ترقی دین کو روک دیتا ہے۔ على هذا القیاس اور بھی چند شق اس امر کے ہیں جو سمت مخالف سے پیش ہو سکتے ہیں جن کے پیش ہونے پر ہم اس کا جواب دیں گے۔ سوم۔ نمونہ تعلیمات قرآن کا تو یہ ہے جو اوپر عرض ہوا تسپر معجزات کا خفیف سا پردہ بھی کچھ نہیں جو کچھ دھوکہ دے سکے۔ چنانچہ محمد صاحب کو صاحب معجزہ ہونے کا انکار مطلق ہے۔ بعض محمدی صاحبان فَأَتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِہ ہے میں ایک بڑا معجزہ فصاحت و بلاغت کا بیان کرتے ہیں مگر کس امر میں مثال طلب کی جاتی ہے اس آیت میں اس کا ذکر کچھ نہیں فصاحت و بلاغت کے دھومی کا قرآن میں کہیں لفظ تک نہیں۔ غالباً مراد قرآنی اس دعوی میں یہ ہے کہ از آنجا قرآن خلاصه کتب انبیاء سلف کا ہے جن کو خدا کے سوا کوئی مخلوق نہیں بنا سکتا تھا لہذا وہ بھی یعنی قرآن بے مثل ہے یعنی اس میں تقدس تعلیمات کا دعویٰ ہے فصاحت بلاغت کا نہیں بلکہ برخلاف فصاحت و بلاغت کے قرآن میں یوں بھی لکھا ہے کہ وہ آسان کیا گیا عربی زبان میں واسطے اہل عرب کے۔ البقرة: ۲۵۷ البقرة : ٢٤