جنگ مقدّس — Page 228
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۲۶ جنگ مقدس یپ ٹما پا کر یردن میں سے نکلا اور جس وقت یہ صدا آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے میں اس سے ۱۳۲) راضی ہوں تم اس کی سنو ۔ اس وقت سے وہ مسیح ہوا ۔ پس اُن دونوں صداؤں کو میں مشابہ پھوٹے ڈھول یا پھٹے نقارہ کے قرار دیتا ہوں۔ دوئم ۔ فریق ثانی نے یقینا میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ تقاضائے عدل الہی کیونکر پورا ہوا اور نہ اس کے عدل کا کچھ لحاظ فرمایا۔ اسی لئے میں اس سوال پر اور کچھ نہ کہتا ہوں نہ سنتا ہوں ۔ باقی سوال جو میرے ہیں ان کو پیش کرتا ہوں ۔ منجملہ ان سوالوں کے پہلا سوال میرا یہ ہے (۷٫۴) يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَى قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلهِ کہتے ہیں کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ ۔ تو کہ کہ سب کام ہیں اللہ کے ہاتھ ۔ انجیل میں ایسا تو لکھا ہے کہ پری ولج جس کا ترجمہ قریب قریب لفظ وسعت سے ہو سکتا ہے منجانب اللہ کے بخشے جاتے ہیں چنانچہ کسی کو ظرف یا عضو عزت کا بنایا گیا ہے اور کسی کو ذلت کا ۔ پھر کسی کو مخدوم ہونا بخشا گیا ہے اور کسی کو خادم ہونا۔ لیکن جہنم کسی کے نصیب نہیں کیا گیا۔ اور نہ تباہ شدنی کسی کو ٹھہرایا گیا ہے اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ فرعون کو اسی لئے بر پا ہونے دیا گیا۔ (اصل لفظ ہے برپا کیا گیا۔ مراد اس کی ہے برپا ہونے دیا گیا ) تا کہ اس میں جلال صفات الہی کا زیادہ ہو لیکن یہ نہیں لکھا کہ انسان کو کچھ بھی اختیار نہیں تا ہم اس کے عملوں پر مواخذہ ہے۔ غرضیکہ قرآن و انجیل کی تعلیم میں یہ فرق ہے کہ قرآن تو اختیار انسانی کے متناقض تعلیم دیتا ہے اور انجیل پری ولجوں میں اور پر مشنوں میں اختیار فعل مختیاری انسان کا نفیض نہیں کرتی اور اگر چہ قرآن میں ساتھ جبر کے قدر بھی ہے لیکن یہ دونوں باہم متفق نہیں ہو سکتے ۔ تیسرا سوال ہمارا یہ ہے کہ جبکہ قرآن کی سورۃ تو به قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَغِرُونَ رکوع ۴ میں یوں لکھا ہے کہ قتل کرو ان کو جو اللہ اور دن قیامت کو نہیں مانتے اور نہ حرام کرتے اُس شے کو اپنے اوپر جس کو اللہ و رسول نے حرام کیا منجملہ ان کے جو اہل کتاب ہیں جب تک دیتے رہیں جزیہ اپنے ہاتھوں سے اور ذلیل رہیں۔ اس میں ایمان بالجبر آل عمران: ۱۵۵ التوبة : ٢٩