جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 502

جنگ مقدّس — Page 186

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۸۴ جنگ مقدس ہونے کے اُن سزاؤں کو تصور میں لاتا ہے جو بے دینوں کو ملیں گی تو خود اس کا بدن کانپ اُٹھتا ہے اور اپنے تئیں اس بات کا بھوکا اور پیاسا پاتا ہے کہ اگر کوئی نشان ہو تو اس سے تسلی پاوے اور اس کے سہارے کیلئے وہ اسکی دلیل ٹھہر جاوے تو پھر میں تعجب کرتا ہوں کہ یہ درخت عیسائی ۹۳ مذہب کا کیوں کر بغیر پھلوں کے قرار دیا جاتا ہے اور کیوں تسلی کی راہ اس شخص کے مقابل پر پیش نہیں کی جاتی جو پیش کر رہا ہے اگر اللہ تعالیٰ کی عادت نشان دکھلانا نہیں ہے تو اس دین اسلام کی تائید کیلئے کیوں نشان دکھلاتا ہے اس لئے کیا کبھی ممکن ہے کہ ظلمت نور پر غالب آجاوے۔ آپ یہ سب باتیں جانے دیں میں خوب سمجھتا ہوں کہ آپکا دل ہر گز ہر گز آپ کے ان بیانات کے موافق نہ ہوگا بہتر تو یہ ہے کہ اس قصہ کے پاک کرنے کے لئے میرے ساتھ آپ کا ایک معاہدہ تحریری ہو جائے اگر میں اُن شرائط کے مطابق جو اس معاہدہ میں کہوں گا کوئی نشان اللہ جل شانہ کی مرضی کے موافق پیش نہ کر سکوں تو جس قسم کی سزا آپ چاہیں اس کے بھگتنے کیلئے تیار ہوں بلکہ سزائے موت کیلئے بھی تیار ہوں لیکن اگر یہ ثابت ہو جاوے تو آپ کا فرض ہوگا کہ اللہ جل شانہ سے ڈر کر دین اسلام کو اختیار کریں ڈاکٹر صاحب یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ عیسائی مذہب تو سچا ہو اور تائید دین اسلام کی ہو آپ بجائے خود حضرت مسیح سے دعائیں کرتے رہیں کہ وہ اس شخص کو ذلیل اور لاجواب کرے اور میں اپنے خدا سے کروں گا پھر وہ جو سچا خدا ہے غالب آ جائے گا۔ سے دعا اس سے بہتر اور کونسی تصفیہ کی صورت ہوگی ۔ آپ کے دعاوی بلا دلیل کو کون تسلیم کر سکتا ہے کیوں آپ ان کو بار بار پیش کرتے ہیں ۔ کیا آپ کی قوم نے بالا تفاق اس کو قبول کر لیا ہے آپ براہ مہربانی سیدھے راہ پر آ کر وہ طریق اختیار کریں جس سے حق و باطل میں فیصلہ ہو جاوے۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی احسان اللہ غلام قادر صحیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام قائم مقام ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان