جنگ مقدّس — Page 187
روحانی خزائن جلد ۶ ۶۵ ۱۸۵ بیان ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک جنگ مقدس جناب مرزا صاحب نے اپنے جواب میں زیادہ طول اہل یہود پر دی ہے اور ان کو ہم نہیں جانتے کہ کس وجہ سے ہمارے اور اپنے درمیان منصف ٹھہرالیا ہے ۔ جناب من آپ کون سی تاریکی کے فرزندوں کا حوالہ دیتے ہیں اگر اُن کے نہ ماننے پر بات موقوف ہے تو آپ کے حضرت صاحب کی شان میں بھی بڑا فرق آتا ہے کیونکہ اُن کی مخالفت پر بھی ہمیشہ کمر باندھ کے منکر ہی رہے۔ جناب من دار مدار کسی انسانی فیصلہ پر نہیں ہے۔ کتابیں موجود ہیں زبان کوئی سمجھ سے باہر نہیں ہے۔ عقل فقط خدا تعالیٰ نے اہل یہود کو عنایت نہیں کی تھی ۔ عبارت میں غلطی ہے بتادیجئے گا۔ معنوں میں ہے تو معنے صحیح ہمیں عنایت کیجئے۔ اور یہودیوں کی کم بختی ہمارے سر پر کیوں تھوپتے ہیں آپ تو فرماتے ہیں کہ یہ قوم پارسا اور خدا پرست تھی تو ریت شریف اور انبیاء کے صحیفوں کو ملاحظہ کیجئے تو ان کا صحیح حال آپ پر روشن ہوگا ۔ دیکھئے یسعیاہ نبی کی کتاب کے شو میں خدا تعالیٰ کیا فرماتا ہے ایسے گروہ کی طرف جو سدا میرے منہ کھجا کر مجھے غصہ دلاتی تھی اور نبیوں کو دیکھئے کہتے ہیں گردن کش سنگدل حد سے زیادہ نبیوں کے قاتل اپنے خدا سے منہ پھیرنے والے۔ یہ ان کی صفات ہیں کلام اللہ میں جسے آپ پاک قوم سمجھ رہے ہیں بلکہ یہاں تک اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ گدھا اپنے مالک اور بیل اپنے چرنے کو جانتا ہے پر میری قوم مجھے نہیں جانتی جن کو اللہ تعالیٰ گدھے اور بیل سے بڑھ کر حماقت میں بتاتا ہے۔ آپ ان سے عدالت چاہتے ہیں ۔ مرزا صاحب یہ آپ سے ہرگز نہ ہوگا ۔ جناب من انھیں کی سنگدلی کی سزا میں خدا تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو تاریک کر دیا کہ وہ نہ سمجھیں ۔ یسعیاہ 10 اور یہ لعنت خداوند یسوع مسیح کے وقت اُن کے سر پر تھی اور تا حال ہے۔ متی واعمال دوسرے قرنطیوں کا ہر ان آیات کے ملاحظہ سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے منصفی کن پر ڈالی ہاں ان کی بے ایمانی سے شہر اُن کا بر باد اپنے ملک سے جلا وطن ۲۸ سارے جہان میں پراگندہ ضرب المثل اور انگشت نما ہو کے یہ آج تک پھرتے ہیں