جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 502

جنگ مقدّس — Page 182

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۸۰ جنگ مقدس کھلی کھلی پیشگوئیاں حضرت مسیح کی خدائی کے لئے عہد عتیق میں موجود تھیں اب ہمیں تیر پر تحیر ہوتا ہے اگر ایک پیشگوئی ہوتی اور یہودیوں کو سمجھ نہ آتی تو وہ معذور بھی ٹھہر سکتے تھے لیکن یہ کیا بات ہے کہ باوجود صد ہا پیشگوئیوں کے پائے جانے کے پھر بھی ایک بھی پیشگوئی اُن کو سمجھ نہ آئی اور کبھی کسی اور زمانہ میں اُن کا یہ عقیدہ نہ ہوا کہ حضرت مسیح بحیثیت خدائی دنیا میں آئیں گے اُن میں نبی بھی تھے اُن میں راہب بھی تھے اُن میں عابد بھی تھے مگر کسی نے اُن میں سے بطور شرح یہ نہ لکھا کہ ہاں ایک خدا بھی انسانی جامہ میں آنے والا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ یہ تو ایک امر غیر ممکن ہے کہ ایسی قوم کا غلط نہی پر اتفاق ہو جائے جس نے نقطہ نقطہ اور شوشہ شوشہ توریت کا اپنے ضبط میں کیا ہوا تھا کیا وہ سارے ہی نا سمجھے تھے کیا وہ سارے ہی بیوقوف تھے کیا سب کے سب متعصب تھے اور پھر اگر وہ متعصب تھے تو اس تعصب کی محرک حضرت مسیح کے ظہور سے پہلے کونسی چیز تھی یہ تو ظاہر ہے کہ تعصبات بالمقابل ہوا کرتے ہیں جبکہ ابھی تک کسی نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا تھا پھر تعصب کس کے ساتھ کیا جائے پس یہ اتفاق یہودیوں کا قبل از زمانہ مسیح کے کہ آنے والا ایک انسان ہے خدا نہیں ہے ایک طالب حق کیلئے کافی دلیل ہے ۔ اگر وہ اسی بات کے شائق ہوتے کہ حق کو خواہ نخواہ چھپایا جاوے تو پھر نبی کے آنے کا کیوں اقرار کرتے ۔ ماسوا ا سکے توریت کے دوسرے مقامات اور بھی اس امر کے مؤید اور مصدق ہیں ۔ چنانچہ توریت میں صاف لکھا ہے کہ تم زمین کی کسی چیز کو اور یا آسمان کی کسی چیز کو جو دیکھو تو اس کو خدا مت بناؤ جیسا کہ خروج ۲۰ باب میں یہ الفاظ ہیں کہ تو اپنے لئے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا۔ اور پھر لکھا ہے اگر تمہارے درمیان 90 کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہو اور تمہیں نشان یا کوئی معجزہ دکھلا دے اور اس نشان یا معجزہ کے مطابق جو اُس نے تمہیں دکھایا ہے بات واقعہ ہو اور وہ تمہیں کہے کہ آؤ ہم غیر معبودوں کی جنہیں تم نے نہیں جانا پیروی کریں تو ہرگز اس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات پر کان مت دھر یو ۔ اسی طرح اور بھی تو ریت میں بہت سے مقامات ہیں جن کے محمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے خروج ۲۰ باب ۴ “ ہونا چاہیے۔(ناشر)