جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 502

جنگ مقدّس — Page 181

روحانی خزائن جلد ۶ 129 جنگ مقدس ذخیرہ کثیر ثبوتوں کا نظر آتا ہے ایک طرف عقل سلیم انسان کی اس اعتقاد کو دھکے دے رہی ہے اور ایک طرف قیاس استقرائی شہادت دے رہا ہے کہ اب تک اس کی نظیر بجز دعوئی متنازعہ فیہ کے نہیں پائی گئی اور ایک طرف قرآن کریم جو بے شمار دلائل سے اپنی حقانیت ثابت کرتا ہے اس سے انکاری ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَّا وَ مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ نصِيرٍ لے (س ۱۷ (۱۶) یعنی عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے ایسی چیز کی جس کی خدائی پر اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان نہیں بھیجا یعنی نبوت پر تو نشان ہوتے ہی ہیں مگر وہ خدائی کے کام میں نہیں آسکتے اور پھر فرماتا ہے کہ اس عقیدہ کے لئے اُن کے پاس کوئی علم بھی نہیں یعنی کوئی ایسی معقولی دلائل بھی نہیں ہے جن سے کوئی عقیدہ پختہ ہو سکے اور پھر فرماتا ہے ۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِذَا تَكَادُ السَّموتُ يَتَفَظَرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا اَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَنِ وَلَد ارس ۱۹ (۹) اور کہتے ہیں کہ رحمان نے حضرت مسیح کو بیٹا بنا لیا ہے یہ تم نے اے عیسائیو! ایک چیز بھاری کا دعویٰ کیا ۔ نزدیک ہے، جو اس سے آسمان و زمین پھٹ جاویں اور پہاڑ کا پنپنے لگیں کہ تم انسان کو خدا بناتے ہو پھر بعد اس کے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اس خدا بنانے میں یہودی لوگ جو اول وارث توریت کے تھے جن کے عہد عتیق کی پیشگوئیاں سراسر غلط انہی کی وجہ سے پیش کی جاتی ہیں کیا کبھی انہوں نے جو اپنی کتابوں کو روز تلاوت کر نیوالے تھے اور اُن پر غور کر نیوالے تھے اور حضرت مسیح بھی اُن کی تصدیق کرتے تھے کہ یہ کتابوں کا مطلب خوب سمجھتے ہیں اُن کی باتوں کو مانو کیا بھی انہوں نے ان بہت سی پیش کردہ پیشگوئیوں میں سے ایک کے ساتھ اتفاق کر کے اقرار کیا کہ ہاں یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود کو خدا بتاتی ہے۔ اور آنے والا مسیح انسان نہیں بلکہ خدا ہوگا۔ تو اس بات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ ہر ایک (۸۹) دانا سوچ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح سے ان کو کچھ مخل اور بغض پیدا ہوتا تو اس وقت پیدا ہوتا جب حضرت مسیح تشریف لائے ۔ پہلے تو وہ لوگ بڑی محبت سے اور بڑی غور سے انصاف و آزادی سے ان پیشگوئیوں کو دیکھا کرتے تھے اور ہر روز ان کتابوں کی تلاوت کرتے تھے اور تفسیریں لکھتے تھے۔ پھر کیا غضب کی بات ہے کہ یہ مطلب ان سے بالکل پوشیدہ رہا۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ الحج: ۷۲ مریم: ۸۹ تا ۹۲