جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 502

جنگ مقدّس — Page 127

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۵ جنگ مقدس المُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ا یعنی تحقیق آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے اختلاف اور ان کشتیوں کے چلنے میں جو دریا میں لوگوں کے نفع کے لئے چلتی ہیں اور جو کچھ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دیے اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخر کیا۔ یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید اور اس کے الہام اور اس ( ۴۰ ) کے مدبر بالا رادہ ہونے پر نشانات ہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانون قدرت سے کیا یعنی اپنی ان مصنوعات سے جو زمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بے شک اس عالم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہ لا شریک اور مد بر بالا رادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی تمام یہ مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے۔ یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مدبر بالا رادہ بھی ہو اور مستجمع جمیع صفات کا ملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو ۔ دوسری نشانی یعنی فرعها في السماء جس کے معنے یہ ہیں کہ آسمان تک اس کی شاخیں پہنچی ہوئی ہیں اور آسمان پر نظر ڈالنے والے یعنی قانون قدرت کے مشاہدہ کرنے والے اس کو دیکھ سکیں اور نیز وہ انتہائی درجہ کی تعلیم ثابت ہو۔ اس کے ثبوت کا ایک حصہ تو اسی آیت موصوفہ بالا سے پیدا ہوتا ہے کس لئے کہ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے مثلاً قرآن کریم میں یہ تعلیم بیان فرمائی ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۔ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے جس کے یہ معنے ہیں کہ الله جل شانه تمام عالموں کا رب ہے یعنی علیہ العلل ہر ایک ربوبیت کا وہی ہے ۔ دوسری یہ کہ وہ رحمان بھی ہے یعنی بغیر ضرورت کسی عمل کے اپنی طرف سے طرح طرح کے آلاء اور نعماء شامل حال اپنی مخلوق کے رکھتا ہے اور رحیم بھی ہے کہ اعمال صالحہ کے بجالانے والوں کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے مقاصد البقرة: ۱۶۵ الفاتحة :٤٢