جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 502

جنگ مقدّس — Page 128

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۲۶ جنگ مقدس کو کمال تک پہنچاتا ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے کہ ہر ایک جزا سزا اس کے ہاتھ میں ہے جس طرح پر چاہے اپنے بندہ سے معاملہ کرے۔ چاہے تو اس کو ایک عمل بد کے عوض میں وہ سزا د یوے جو اس عمل بد کے مناسب حال ہے اور چاہے تو اس کے لئے مغفرت کے سامان میسر کرے۔ یہ تمام امور اللہ جل شانہ کے اس نظام کو دیکھ کر صاف ثابت ہوتے ہیں۔ پھر تیسری نشانی جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی تؤتى اكلها كل حین یعنی کامل کتاب کی ایک یہ بھی ام نشانی ہے کہ جس پھل کا وہ وعدہ کرتی ہے وہ صرف وعدہ ہی وعدہ نہ ہو بلکہ وہ پھل ہمیشہ اور ہر وقت میں دیتی رہے۔ اور پھل سے مراد اللہ جل شانہ نے اپنا لقا معہ اس کے تمام لوازم کے جو برکات سماوی اور مکالمات الہیہ اور ہر ایک قسم کی قبولیتیں اور خوارق ہیں رکھی ہیں جیسا کہ خود فرماتا ہے ۔ اِنَّ الَّذِینَ قَالُوْا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلكَةُ الَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَعُوْنَ ۔ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (۱۸/۲۴) وه لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی یعنی اپنی بات سے نہ پھرے اور طرح طرح کے زلازل ان پر آئے مگر انہوں نے ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیا۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم کچھ خوف نہ کرو اور نہ کچھ حزن اور اس بہشت سے خوش ہو جس کا تم وعدہ دیئے گئے تھے یعنی اب وہ بہشت تمہیں مل گیا اور بہشتی زندگی اب شروع ہو گئی ۔ کس طرح شروع ہوگئی نحسن اولیاء کم الخ اس طرح کہ ہم تمہارے متولی و متکفل ہو گئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔ مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِین کے میں فرمایا گیا تھا ۔ اور آیت فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ کے کے متعلق ایک بات ذکر کرنے سے رہ گئی کہ کمال اس تعلیم کا باعتبار اس کے انتہائی درجہ ترقی کے کیونکر ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن شریف سے پہلے جس قدر تعلیمیں آئیں در حقیقت وہ ایک قانون مختص القوم یا مختلف الزمان کی طرح تھیں اور عام افادہ کی قوت ان میں نہیں پائی جاتی تھی لیکن قرآن کریم تمام حم السجدة : ٣١ تا ٣٣ ابراهیم: ۲۶ ابراهیم ۲۵