جنگ مقدّس — Page 113
روحانی خزائن جلد ۶ " جنگ مقدس میں تو ایک ہے اور صورت ثانی میں تین ہیں اس کو ہم مشرح آئندہ تمہید میں کریں گے۔ صفت بے نظیری کی صفت بے حدی سے نکلی ہے کیونکہ بے نظیر مطلق وہ شے ہو سکتی ہے جو ۲۷ امکان تک نظیر کا مٹا ڈالے اور یہ امکان تب مٹ سکتا ہے کہ جب مکان گنجائش نظیر کا مٹ سکے یعنی وہ شے بے حد بھی ہو جس کے بارہ میں کہا جاسکتا ہے کہ قدامت اور ماہیت بے حدی اور بے نظیری کی واحد ہے۔ کیونکہ نہیں کہہ سکتے کہ بے نظیری بے حدی سے کب نکلی اور کہاں رہتی۔ ہے۔ کیونکہ وہ بے حدی سے علیحدہ نہیں ہو سکتی۔ پس اس نظیر سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک شے بمثل بے حدی کے قائم فی نفس ہے اور دوسری شے بمثل بے نظیری کے لا زم اور ملزوم ساتھ اس بیدی کے ہے اور خوب غور سے دیکھ لینا چاہیے کہ ان دونوں صفتوں میں ایک تمہید ایسی واقع ہے جس کو بداہت کہا جاوے تو یہ ہر دو ایک صورت میں تو ایک سی ہیں اور دوسری صورت میں متفرق جیسے مثال ہم نے دو صفات سے دی ہے تو یہ صفات بجائے اجزا شے ہونے کے حاوی برگل شے ہیں۔ ایسا ہی جس کو ہم کہتے ہیں خدائے اب اور وہ بمثل بے حدی کے قائم فی نفسہ ہے اور جن کو ہم کہتے ہیں۔ ابن و روح القدس وہ لازم و ملزوم ساتھ خدائے اب کے ہیں۔ اب ہم نے ان کی یہ تمیز دکھلا دی ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ ماہیت ان کی منقسمہ ہے۔ پس ہم مشرک بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم وحدہ لاشریک کے قائل ہیں۔ ہم تین خدا نہیں بناتے بلکہ ہم تینوں اقانیم یا شخص مساوی یک دیگر کو صفات الہیہ سے کلام میں مزین پاتے ہیں اور یہ ماہیت میں ایک ہیں اور فی نفسہ لازم و ملزوم ہونے کے باعث تین ہیں۔ پنجم ۔ جناب استفسار فرماتے ہیں کہ قرآن سے ثابت کر دکھلاؤ کہ وہ آگ ہی خدا تھی یا آگ میں سے آواز آئی تھی اور یہ آواز جو آئی تھی کہ میں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا خدا ہوں ۔ بجواب اس کے عرض یہ ہے کہ آواز غیب سے جو آئی اور جو مخاطب ساتھ موسیٰ کے ہوئی اس کا ذکر ابھی ہم نہیں کرتے لیکن وہ آواز یہ تھی کہ تحقیق میں تیرا رب ہوں (س طه را ) اگر جناب یہ کہیں کہ آگ میں سے یہ آواز نہ تھی تو قرینہ الفاظ تو یہ نہیں ظاہر کرتا کہ سوائے آگ کے اور جگہ سے ہووے