جنگ مقدّس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 502

جنگ مقدّس — Page 112

روحانی خزائن جلد ۶ 11+ جنگ مقدس ۲۲ اول ۔ جناب جو فرماتے ہیں کہ مسیح کا جسم زوال پذیر تھا۔ اس واسطے نہ وہ کفارہ ہوسکا اور نہ کسی کام آیا اس کے جواب میں عرض ہے کہ ہم انسانی جسم مسیح کومسیح قرار نہیں دیتے مگر سارا وجود انسانی جو گناہ سے پاک تھا اور سوائے گناہ کے اور سب باتوں میں ہمارے مساوی اور مخلوق تھا اور ماسوائے انسانیت کے وہ مظہر اللہ بھی تھا یعنی جائے ظہور اللہ کا جس پاک انسانیت میں بار گناہاں سب کا اپنے اوپر اٹھا لیا اور اقنوم ثانی اللہ نے وہ بار اٹھوا دیا۔ اور یوں معاوضہ گناہاں کا ہو کر کفارہ پورا ہو گیا پھر وجود ثانی کے قائم و دائم رہنے کی کیا ضرورت تھی۔ دوم ۔ آپ کا دوسرا اعتراض مسیح خدا تعالیٰ ہے تو مظہر اللہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کیا انسان کو مظہر انسان کہا کرتے ہیں۔ جواب مسیح انسان کو اس کی الوہیت متعلقہ کے مشابہ کیوں کرتے ہیں انسان میں تو جسم علیحدہ چیز ہے اور روح علیحدہ چیز ہے اور جان ایک علیحدہ شے ہے۔ چنانچہ روح وہ شے ہے جس کے متعلق صفات علم اور ارادہ کے ہیں ۔ جسم وہ شے ہے جس میں نہ علم ہے نہ ارادہ ہے۔ جان وہ قانون ہے جو نباتات میں بھی غذا کو بذریعہ رگ و ریشہ کے پہنچاتی ہے لیکن خدایا مظہر اللہ ان ساری علل سے علیحدہ ہے اور وہ قائم فی نفسہ ہے۔ سوم ۔ جناب میرزا صاحب کے خیال میں مسیح کی روح قانون قدرت کے موافق مریم سے حاصل ہوئی تھی اسی لئے وہ خدا نہیں ہو سکتے ۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ مسیح کی انسانی روح اگر چه قانون قدرت کے موافق نہیں پیدا ہوئی تاہم خلقیت میں مساوی ہے اور اشتقاق روح کا دوسری روح سے نہیں ہوتا جو مریم سے شق ہو کے وہ روح آئی ہو کیونکہ روح جو ہر فرد ہے اور کسی قانون اور آئین کا نام نہیں بلکہ شے جمع صفات و تعریف شخص کی ہے تو پھر آپ یوں کیوں فرماتے ہیں کہ مسیح کی روح مریم سے حاصل ہوئی تھی ۔ کیوں نہ اس کو کہیں کہ نئی مخلوق ہوئی تھی ۔ اور ماسوا اس کے الوہیت سے اس بات کا کیا علاقہ ہے ۔ ہم تو بار بار کہہ چکے کہ مظہر اللہ ما سوا اس کے انسانیت کی ہے۔ چہارم ۔ جناب کا سوال ہے کہ خدا منقسم نہیں ہوسکتا پھر تین خدا کیونکر ہوئے اور اس تقسیم کی امتیاز کی بناء کیا ہے۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ ہم یوں کہتے ہیں کہ تثلیث کا سرصورت واحدہ