ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 640 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 640

۔علماء دن رات نفسانی جوشوں کے باعث آپس میں لڑ رہے ہیں اور زاہد ضروریاتِ دین سے بالکل غافل ہیں۔ہر شخص اپنے ذلیل نفس کی خاطر ایک طرف ہوگیا ہے۔اس لئے دین کا پہلو خالی ہے اور ہر دشمن کمین گاہ میں سے کود پڑا۔اے مسلمانو! کیا یہی مسلمانی کی علامتیں ہیں دین کی تو یہ حالت ہے اور تم مُردار دنیا سے چمٹے ہوئے ہو۔کیا تمہاری نظر میں دنیا کا محل بہت مضبوط ہے؟ یا شاید پہلوں کی موت کا خیال تمہارے دل سے نکل گیا ہے۔اے غافلو ! موت کا وقت قریب آگیا اس کی فکر کرو حسین اور مہ جبیں معشوقوں کے ساتھ دور شراب کب تک چلتا رہے گا۔اے عقلمند اپنے نفس کو دنیا کا قیدی مت بنا، ورنہ مرنے کے وقت بہت سختیاں برداشت کرے گا۔اس محبوب کے سوا جس کا حسن لازوال ہے اور کسی کو دل نہ دے تا کہ تو دائمی خوشی خدائے محسن کی طرف سے حاصل کرے۔وہ آدمی عقلمند ہے جو اس کی راہ کا دیوانہ ہے اور وہ شخص ہوشیار ہے جو اس حسین محبوب کے چہرہ کا گرویدہ ہے۔اس کے عشق کا جام لازوال آب حیات ہے جس نے اُسے پی لیا وہ پھر ہرگز نہیں مرے گا۔اے بھائی اس ذلیل دنیا کی دولت سے دل نہ لگا اس شہد کے ہر قطرہ میں زہر ہلا ہل بھرا ہوا ہے۔جہاں تک تجھ سے ہو سکتا ہو جان ومال کے ساتھ دین کے لئے کوشش کر تا کہ خداوند عرش کی طرف سے خوشنودی کا خلعت حاصل کرے۔اس نور کو جو تیرے ایمان میں ہے اپنے عمل سے ثابت کر جب تو نے یوسف کو دل دیا تو کنعان کا رستہ بھی اختیار کر۔وہ دن یاد ہیں جب یہ دین سب اہل مذاہب کا مرجع بنا ہوا تھا اور لعنتی شیطان کے راستہ سے اس نے ایک جہان کو آزاد کر ایا تھا۔نور علم کی وجہ سے اس نے دنیا میں نیک تربیت کا سایہ پھیلا رکھا تھا اور عزوہ جاہ کی وجہ سے آسمان پر اس کا قدم تھا۔اب ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہر احمق بے وقوفی سے اس دین متین کی تکذیب کرتا ہے صفحہ ۴۶۔لاکھوں بیوقوف دین سے باہر نکل گئے اور لاکھوں جاہل مکاروں کا شکار بن گئے