ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 641 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 641

۔مسلمانوں پر ساری ذلت اسی وجہ سے پڑی کہ دین کے معاملہ میں ان کی ہمت نے ان کی غیرت کا ساتھ نہیں دیا۔اگر ایک جہان مصطفی کے دین کی راہ سے پھر جائے تو جنین جتنی بھی وہ غیرت سے حرکت نہیں کرتے۔وہ ہر گھڑی اس ذلیل دنیا کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور ان کا مال عورتوں اور بیٹوں پر خرچ ہوتا رہتا ہے۔جس مجلس میں بھی فسق وفجور ہو وہ اُس کے صدر ہوتے ہیں اور جہاں گناہ گاروں کا حلقہ ہو وہ نگینہ کی مانند ہوتے ہیں۔شراب کے رسیا مگر ہدایت سے بے گانہ۔ارباب دین سے نفرت اور شرابخوروں سے صحبت ہے۔اس محبوب نے ان سے منہ پھیر لیا جو پہلے ان سے اخلاص رکھتا تھا جب اُس نے اس قوم کے دل میں مخلصوں والی وفاداری نہ دیکھی۔ان کے دولت واقبال کا زمانہ تو گزر گیا۔اب ان کے اعمال کی نحوست ایسے دن لے آئی۔پہلے جو ترقی ہوئی تھی وہ دین پروری کے راستہ سے ہوئی تھی پھر بھی جب ہو گی یقینا اسی راہ سے ہو گی۔اے خدا پھر کب تیری طرف سے مدد کا وقت آئے گا اور ہم پھر وہ مبارک دن اور سال کب دیکھیں گے۔دین احمد کے متعلق ان دو فکروں نے میری جان کا مغز گھلا دیا اعدائے ملّت کی کثرت اور انصار دین کی قلّت۔اے خدا جلد آ اور ہم پر اپنی نصرت کی بارش برسا۔ورنہ اے میرے رب اس آتشیں جگہ سے مجھ کو اٹھالے۔اے خدا رحمت کے مطلع سے ہدایت کا نور طلوع کر اور چمکتے ہوئے نشان دکھلا کر گمراہوں کی آنکھیں روشن کر۔جب تو نے مجھے اس سوز وگداز میں صدق بخشا ہے تو مجھے یہ امیدنہیں کہ تو اس معاملہ میں مجھے ناکامی کی موت دے گا۔سچوں کا کاروبار ہرگز نامکمل نہیں رہتا۔صادقوں کی آستین میں خدا کا ہاتھ مخفی ہوتا ہے صفحہ ۶۲۔احمد کی شان کو سوائے خداوند کریم کے کون جان سکتا ہے وہ اپنی خودی سے اس طرح الگ ہو گیا کہ میم درمیان سے گر گیا۔وہ اپنے معشوق میں اس طرح محو ہو گیا کہ کمال اتحاد کی وجہ سے اس کی صورت بالکل ربّ رحیم کی صورت بن گئی۔محبوبِ حقیقی کی خوشبو اس کے چہرہ سے آرہی ہے اس کی حقانی ذات خدائے قدیم کی ذات کی مظہر ہے۔خواہ کوئی مجھے الحاد اور گمراہی سے ہی منسوب کرے مگر میں تو احمد کے دل جیسا اور کوئی عظیم الشان عرش نہیں دیکھتا