ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 606 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 606

۹۲۲ روحانی خزائن جلد ۳ ۶۰۶ حاشیه متعلقه صفحه۸۹۲ ازالہ اوہام حصہ دوم یہ آیت پوری پوری یہ ہے يعنى انى مُتَوَقِيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہرا کر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں ۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دینے والا ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں ۔ کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف بلایا جاوے اور ارجعی الی رنگ کی خبر اس کو پہنچ جائے پہلے اس کا وفات پانا ضروری ہے۔ پھر ہمو جب آیت کریمہ ارجعي إلى رب سے اور حدیث صحیح کے اس کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے۔ اور وفات کے بعد مومن کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے جس پر قرآن کریم اور احادیث (۹۲۳) صحیحہ ناطق ہیں پھر بعد اس کے جو خدائے تعالیٰ نے حضرت عیسی کو فرمایا جو میں تجھے کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہود چاہتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو مصلوب کر کے اس الزام کے نیچے داخل کریں جو توریت باب استثناء میں لکھا ہے جو مصلوب لعنتی اور خدائے تعالیٰ کی رحمت سے بے نصیب ہے۔ جو عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا نہیں جاتا۔ سو خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو اس آیت میں بشارت دی کہ تو اپنی موت طبعی سے فوت ہوگا اور پھر عزت کے ساتھ میری طرف اُٹھایا جائے گا اور جو تیرے مصلوب کرنے کے لئے تیرے دشمن کوشش کر رہے ہیں ان کوششوں میں وہ ناکام رہیں گے اور جن الزاموں کے قائم کرنے کے لئے وہ فکر میں ہیں اُن تمام الزاموں سے میں تجھے ہاہے دیکھئے ایڈیشن ھذا کاصفحہ ۵۸۷۔(ناشر) ال عمران : ۵۶ الفجر : ٢٩