ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 605
روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم لفظ موت اور امانت کے جو متعدد المعنی ہے اور نیند اور بے ہوشی اور کفر اور (۹۲) ضلالت اور قریب الموت ہونے کے معنوں میں بھی آیا ہے ۔ تَوَفَّی کا لفظ کہیں دکھاوے مثلاً یہ کہ توفاه الله مائة عام ثم بعثه تو ایسے شخص کو بھی بلا تو قف ہزار روپیہ نقد دیا جاوے گا ۔ ہمیں المشتهر خاکسار غلام احمد از لودهیانه محله اقبال گنج نوٹ۔ فوت کے بعد زندہ کرنے کے متعلق جس قدر قرآن کریم میں آیتیں ہیں کوئی اُن میں سے حقیقی موت پر محمول نہیں ہے۔ اور حقیقی موت کے ماننے سے نہ صرف اس جگہ یہ لازم آتا ہے کہ وہ آیتیں قرآن کریم کی اُن سولہ آیتوں اور اُن تمام حدیثوں سے مخالف ٹھہرتی ہیں جن میں یہ لکھا ہے کہ کوئی شخص مرنے کے بعد پھر دنیا میں نہیں بھیجا جاتا بلکہ علاوہ اس کے یہ فساد بھی لازم آتا ہے کہ جان کندن اور حساب قبر اور رفع الى السماء جو صرف ایک دفعہ ہونا چاہیے تھا دو دفعہ ماننا پڑتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اب شخص فوت شدہ حساب قبر کے بعد قیامت میں اٹھے گا کذب صریح ٹھہرتا ہے۔ اور اگر ان آیتوں میں حقیقی موت مراد نہ لیں تو کوئی نقص لازم نہیں آتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ موت کے مشابہ ایک مدت تک کسی پر کوئی حالت بے ہوشی وارد کر کے پھر اس کو زندہ کر دیوے مگر وہ حقیقی موت نہ ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ جب تک خدا تعالے کسی جاندار پر حقیقی موت وارد نہ کرے وہ مر نہیں سکتا۔ اگر چہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جاوے۔ آلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوْتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ منه البقرة : ١٠٧ ال عمران : ۱۴۶