ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 607 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 607

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۰۷ ازالہ اوہام حصہ دوم پاک اور منزہ رکھوں گا یعنی مصلوبیت اور اس کے بدنتائج سے جو عنتی ہونا اور نبوت سے محروم ہونا اور رفع سے بے نصیب ہوتا ہے۔ اور اس جگہ توفی کے لفظ میں بھی مصلوبیت سے بچانے کے لئے ایک بار یک اشارہ ہے کیونکہ توفی کے معنے پر غالب یہی بات ہے کہ موت طبعی سے وفات دی جائے یعنی ایسی موت سے جو محض بیماری کی وجہ سے ہو نہ کسی ضربہ سقطہ سے ۔ اسی وجہ سے مفسرین صاحب کشاف وغیرہ انی متوفیک کی یتغییر لکھتے ہیں کہ انی ممیتک حتف انفک ۔ ہاں یہ اشارہ آیت کے تیسرے فقرہ میں کہ مطھرک من الذین کفروا ہے اور بھی زیادہ ہے۔ غرض (۹۲۳) فقره مطهرك من الذين كفروا جیسا کہ تیسرے مرتبہ پر بیان کیا گیا ہے ایسا ہی ترتیب طبیعی کے لحاظ سے بھی تیسری مرتبہ پر ہے کیونکہ جبکہ حضرت عیسی کا موت طبعی کے بعد نبیوں اور مقدسوں کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو گیا تو بلا شبہ وہ کفار کے منصوبوں اور الزاموں سے بچائے گئے اور چوتھا فقرہ و جاعل الذین اتبعوک جیسا کہ ترتیا چوتھی جگہ قرآن کریم میں واقع ہے ایسا ہی طبعا بھی چوتھی جگہ ہے کیونکہ حضرت عیسی کے متبعین کا غلبہ ان سب امور کے بعد ہوا ہے۔سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقعہ ہیں اور یہی قرآن کریم کی شان بلاغت سے مناسب حال ہے کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبیعی سے بیان کرنا کمال بلاغت میں داخل اور عین حکمت ہے۔ اسی وجہ سے ترتیب طبعی کا التزام تمام قرآن کریم میں پایا جاتا ہے۔ سورۃ فاتحہ میں ہی دیکھو کہ کیوں کر پہلے رب العالمین کا ذکر کیا ۔ پھر رحمن پھر رحیم پھر مالک یوم الدین اور کیوں کر فیض کے سلسلہ کو ترتیب وار عام فیض سے لے کر اخص فیض تک پہنچایا ۔ غرض موافق عام طریق کامل البلاغت قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرہ ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں لیکن حال کے متعصب ملا جن کو یہودیوں کی طرز پر يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہ لے کی عادت ہے اور جو مسیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے النساء : ۴۷