ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 600 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 600

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۰۰ ازالہ اوہام حصہ دوم نگاہ میں یہی کلام ہے اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ اپنا کلام اپنے بندوں پر نازل کرے۔ ایک مسلمان کے لئے قرآن کریم اور احادیث نبویہ کافی ہیں خدائے تعالیٰ کا اپنے نبیوں سے ہم کلام ہونا اور اولیاء میں سے حضرت موسیٰ کی والدہ پر اپنا کلام نازل کرنا۔ حضرت خضر کو اپنے کلام سے مشرف کرنا۔ مریم صدیقہ سے اپنے فرشتہ کی ۹۱۴ معرفت ہم کلام ہونا وغیرہ وغیرہ۔ اس قدر قرآن کریم میں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ حاجت بیان نہیں۔ اور صحیح بخاری میں صفحہ ۵۲۱ میں مناقب حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں یہ حدیث لکھی ہے قد كان في من قبلكم من بنى إسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبیاء فان یک فی أُمَّتِي مِنْهُمُ احد فعمر یعنی تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ گذرے ہیں کہ خدائے تعالیٰ اُن سے ہمکلام ہوتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں سواگر ایسے لوگ اس اُمت میں ہیں تو وہ عمر ہے۔ ایسا ہی جمیع مشاہیر اولیاء کرام اپنے ذاتی تجارب سے اس بات کی گواہی دیتے آئے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کو اپنے اولیاء سے مکالمات و مخاطبات واقع ہوتے ہیں اور کلام لذیذ رب عزیز کی بوقت دعا اور دوسرے اوقات میں بھی اکثر وہ سنتے ہیں۔ دیکھنا چاہیے کہ فتوح الغیب میں سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کس قدر جا بجا اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ کلام الہی اس کے مقرب اولیاء پر ضرور نازل ہوتا ہے اور وہ کلام ہوتا ہے نہ فقط الہام اور حضرت مجدد ۹۱۵) الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی صفحہ 99 میں ایک مکتوب بنام محمد صدیق لکھتے ہیں۔ جس کی یہ عبارت ہے۔ اعلم ايها الصديق ان كلامه سُبحانه مع البشر قد يكون شفاها | و ذالک الافراد من ا الانبياء وقد يكون ذالك لبعض المكمل من متابعيهم واذا كثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم سمى مُحدثا وهذا غير الالهام وغير الالقاء في الروع وغير الكلام الذى مع الملك