ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 599
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۹ ازالہ اوہام حصہ دوم جب انسان کی روح نفسانی آلائشوں سے پاک ہو کر اور اسلام کی واقعی حقیقت سے کامل رنگ پکڑ کر خدائے تعالیٰ کی بے نیاز جناب میں رضا اور تسلیم کے ساتھ پوری پوری وفاداری کو لے کر اپنا سر رکھ دیتی ہے اور ایک سچی قربانی کے بعد جو فدائے نفس و مال و عزت و دیگر لوازم محبوبہ نفس سے مراد ہے محبت اور عشق مولیٰ کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے اور تمام حجب نفسانی جو اُس میں اور اُس کے رب میں دوری ڈال رہے تھے معدوم اور زائل ہو جاتے ہیں اور ایک انقلاب عظیم اور سخت تبدیلی اس انسان کی صفات اور اس کی اخلاقی حالت اور اس کی زندگی کے تمام جذبات میں پیدا ہو کر ایک نئی پیدائش اور نئی زندگی ظہور میں آجاتی ہے اور اس کی نظر شہود میں وجود غیر بکلی معدوم ہو جاتا ہے۔ تب ایسا انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ مکالمہ الہی سے بکثرت مشرف ہو۔ اور مکالمہ الہی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ محدود اور مشتبہ معرفت سے انسان ترقی کر کے اس درجہ شہود پر پہنچتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اس نے دیکھ لیا ہے۔ سو یہ وہ مقام ہے جس پر تمام مقامات معرفت و خداشناسی کے ختم ہو جاتے ہیں اور یہی وہ آخری نقطہ کمالات بشریہ کا ہے جس سے بڑھ کر عرفان کے پیاسوں کے لئے اس دنیا میں ہر گز میسر نہیں آسکتا (۴۹۱۳ اور نبیوں اور محدثوں کے لئے اس کے حصول کا اکثر طور پر قدرتی طریق یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ چاہتا ہے کہ کسی پر اُن میں سے اپنا کلام نازل کرے تو روحانی طور پر بغیر توسط جسمانی اسباب کے اس پر ربودگی اور بیہوشی طاری کی جاتی ہے۔ تب وہ شخص اپنے وجود سے بکلی گم ہو کر بلا اختیار جناب الہی کی ایک خاص کشش سے گہرے غوطہ میں چلا جاتا ہے اور ہوش آنے کے وقت ساتھ اپنے ایک کلام لذیذ لے آتا ہے وہی وحی الہی ہے۔ یہ کلام جو خدا تعالیٰ کے پیاروں اور مقدسوں پر نازل ہوتا ہے یہ کوئی وہمی اور خیالی بات نہیں ہوتی ۔ جس کو انسان کا نفس آپ ہی پیدا کر سکے بلکہ یہ واقعی اور حقیقی طور پر اس ذات لا یدرک کا کلام ہوتا ہے جس کی ہستی کا انتہائی اور اعلیٰ درجہ کا ثبوت عارفوں کی