ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 601
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۰۱ ازالہ اوہام حصہ دوم انما يُخاطب بهذا الكلام الانسان الكامل والله يختص برحمته من يشاء یعنی اے دوست تمہیں معلوم ہو کہ اللہ جل شانہ کا بشر کے ساتھ کلام کرنا کبھی روبرو اور ہم کلامی کے رنگ میں ہوتا ہے اور ایسے افراد جو خدائے تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں وہ خواص انبیاء میں سے ہیں۔ اور کبھی یہ ہم کلامی کا مرتبہ بعض ایسے مکمل لوگوں کو ملتا ہے کہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کے متبع ہیں اور جو شخص کثرت سے شرف ہم کلامی کا پاتا ہے اس کو محدث بولتے ہیں۔ اور یہ مکالمہ البی ازقسم الہام نہیں بلکہ غیر الہام ہے اور یہ القاء فی الروع بھی نہیں ہے اور نہ اس قسم کا کلام ہے جو فرشتہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کلام سے وہ شخص مخاطب کیا جاتا ہے جو انسان کامل ہو اور خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے۔ ان عبارات سے معلوم ہوا کہ در حقیقت الہام اور چیز ہے اور مکالمہ الہی اور چیز ہے۔ اور (۹۱۲) سید صاحب اپنی کتاب تبیین الکلام کے صفحہ ے میں اس بیان مذکورہ بالا کا صاف اقرار کرتے ہیں۔ ناظرین کو چاہیے کہ صفحہ ۷ تبیین الکلام کا ضرور پڑھیں تا معلوم ہو کہ سید صاحب آپ ہی پہلے ان تمام باتوں کا اقرار کر چکے ہیں اور اب بعد اقرار کسی مصلحت سے انکاری ہو بیٹھے ہیں۔ اور سید صاحب کا یہ فرمانا کہ الہام بے سود ہے خود بے سود ہے کیونکہ اگر وہ الہام بے سود ہے جس کی سید صاحب نے تعریف اپنے مضمون میں کی ہے تو ہوا کرے لیکن کلام الہی تو بے سود نہیں اور نعوذ باللہ کیوں کر بے سود ہو ۔ وہی تو ایک ذریعہ کامل معرفت کا ہے جس کی وجہ سے انسان اس پر غبار دنیا میں صرف خود تراشیدہ خیالات سے خدائے تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں ہوتا بلکہ اُس حی و قیوم کے منہ سے انا الموجود کی آواز بھی سن لیتا ہے اور صد ہا فوق العادت پیشگوئیوں اور اسرار عالیہ کی وجہ سے جو اس کلام کے ذریعہ من جہ منکشف ہوتے ہیں متکلم پر ایمان لانے کے لئے حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے