ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 588 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 588

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۸ ازالہ اوہام حصہ دوم حدیث بھی بروایت ابو ہریرہ لکھ دی ہے انا اولی الناس بابن مريم والانبياء اولاد علات اور اسی کی تائید میں امام بخاری نے کتاب المغازی میں بذیل کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ ۶۴۰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور حدیث لکھی ہے۔ ۸۹۴ اور منجملہ افادات امام بخاری کے جن کا ہمیں شکر کرنا چاہیے یہ ہے کہ انہوں نے صرف اسی قدر ثابت نہیں کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں بلکہ احادیث نبویہ کی رو سے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے پھر دنیا میں آنہیں سکتا۔ چنانچہ بخاری کے صفحہ ۶۴۰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی گئی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو بعض آدمی یہ گمان کرتے تھے کہ آنحضرت فوت نہیں ہوئے اور بعض کہتے تھے کہ فوت ہو گئے ۔ مگر پھر دنیا میں آئیں گے۔ اس حالت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ کے گھر گئے اور دیکھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تب وہ چادر کا پردہ اُٹھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کی طرف جھکے اور چوما اور کہا کہ میرے ماں باپ تیرے پر قربان مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ خدا تیرے پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ پھر لوگوں میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فوت ہو جانا ظاہر کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فوت ہونے اور پھر دنیا میں نہ آنے کی تائید میں یہ آیت پڑھی مَا مُحَمَّدُ (۸۹۵) إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ل یعنی محمد اس سے زیادہ نہیں کہ وہ رسول اللہ ہے اور اس سے پہلے تمام رسول اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے گذر چکے ہیں ۔ یادر ہے کہ من قبله الرسل کا الف لام استغراق کا ہے جو رسولوں کی جمع افراد گذشتہ پر محیط ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر دلیل ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جائے تو وہ پھر وہ استدلال جو مدعا قرآن کریم کا ہے اس آیت سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس آیت کے پیش کرنے سے حضرت ابوبکر صدیق نے اس بات کا ثبوت دیا کہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا کہ جو فوت نہ ہوا ہو اور نیز اس بات کا ثبوت دیا کہ جو فوت ہو جائے پھر دنیا میں کبھی نہیں آتا کیونکہ لغت عرب ال عمران : ۱۴۵