ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 587
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۷ ازالہ اوہام حصہ دوم ☆ ظاہر کرنا ہے کہ اس آیت کی یہی تفسیر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پر وارد کر کے آپ فرمائی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اس طرز کو امام بخاری نے اختیار کر کے صرف اپنا ہی مذہب ظاہر نہیں کیا بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت فلما توفیتنی کے یہی معنی سمجھتے تھے تب ہی تو انہیں الفاظ فلما توفیتنی کو بغیر کسی تبدیل و تغییر کے اپنی نسبت استعمال کر لیا۔ پھر امام صاحب نے اسی مقام میں ایک اور کمال کیا ہے کہ اس معنی کے زیادہ پختہ کرنے کے لئے اسی صفحہ ۶۶۵ میں آیت یا عیسی انی متوفیک کے بحوالہ ابن عباس کے اسی کے مطابق تفسیر کی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں وقال ابن عباس متوفیک ممیتک (دیکھو وہی صفحه ۶۶۵ بخاری ) یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ یہ جو آیت قرآن کریم ہے کہ یا عیسی انی متوفیک اس کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسے میں تجھے وفات دُوں گا۔ سو امام بخاری صاحب ابن عباس کا قول بطور تائید کے لائے ہیں تا معلوم ہو کہ صحابہ کا بھی یہی مذہب تھا کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔ اور پھر امام بخاری نے ایک اور کمال کیا ہے کہ اپنی صیح کے صفحہ ۵۳۱ میں مناقب ابن عباس میں (۸۹۳) صحیح لکھا ہے کہ خودا بن عباس سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اپنے سینہ سے لگایا اور دعا کی کہ یا الہی اس کو حکمت بخش اس کو علم قرآن بخش چونکہ دعا نبی کریم کی مستجاب ہے اس لئے ابن عباس کا یہ بیان کہ توفی عیسی جو قرآن کریم میں آیا ہے اماتت عیسی اس سے مراد ہے یعنی عیسی کی وفات دینا۔ یہ معنی آیت کریمہ کے جو ابن عباس نے کئے ہیں اس وجہ سے بھی قابل قبول ہیں کہ ابن عباس کے حق میں علم قرآن کی دعا مستجاب ہو چکی ہے۔ پھر امام بخاری نے اس آیت فلما تو فیتنی کو کتاب الانبیاء صفحہ ۴۷۳ اور پھر صفحہ ۴۹۰ میں انہیں معنوں کے ظاہر کرنے کی غرض سے ذکر کیا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ اس قصہ کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیح ابن مریم سے ایک مشابہت ہے چنانچہ صفحہ ۴۸۹ میں یہ فٹ نوٹ: اس آیت کا حاشیہ ایڈیشن اول کے صفحہ ۹۲۲ اور اس ایڈیشن کے صفحہ ۲۰۶ پر ملاحظہ فرماویں۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” کو “ہونا چاہیے۔(ناشر)