ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 589 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 589

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۸۹ ازالہ اوہام حصہ دوم اور محاورہ اہل عرب میں خلا یا خَلَث ایسے لوگوں کے گذرنے کو کہتے ہیں جو پھر آنے والے نہ ہوں ۔ پس تمام رسولوں کی نسبت جو آیت موصوفہ بالا میں خَلَث کا لفظ استعمال کیا گیا وہ اسی لحاظ سے استعمال کیا گیا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ لوگ ایسے گئے ہیں کہ پھر دنیا میں ہر گز نہیں آئیں گے۔ چونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال یافتہ ہونے کی حالت میں آپ کے چہرہ مبارک کو بوسہ دے کر کہا تھا کہ تو حیات اور موت میں پاک ہے تیرے پر دو موتیں ہرگز وارد نہیں ہوں گی یعنی تو دوسری مرتبہ دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا۔ اس لئے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول کی تائید میں آیت قرآن کریم کی پیش کی جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ سب رسول جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے گذر چکے ہیں اور جو رسول اس دنیا سے گذر گئے ہیں پھر اس دنیا میں ہر گز نہیں آئیں گے کیونکہ جیسا کہ قرآن شریف میں اور فوت شدہ لوگوں کی نسبت خَلَوْا یا (۴۸۹۶ حلت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایسا ہی یہی لفظ نبیوں کے حق میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اور یہ لفظ موت کے لفظ سے اخص ہے کیونکہ اس کے مفہوم میں یہ شرط ہے کہ اس عالم سے گذر کر پھر اس عالم میں نہ آوے۔ غرض امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے اس جگہ فوت شدہ نبیوں کے دوبارہ نہ آنے کے بارے میں اوّل قول ابوبکر صدیق کا پیش کیا جس میں یہ بیان ہے کہ خدا تیرے پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا کیونکہ دوبارہ آنا دو موتوں کو مستلزم ہے۔ اور پھر اس بارے میں قرآن کریم کی آیت پیش کی اور یہ ثبوت دیا کہ خلا اس گذرنے کو کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد عود نہ ہو ۔ اس تحقیق و تدقیق سے کمالات امام بخاری ظاہر ہیں۔ جزاه الله خير الجزاء وادخله الله في الجنّات العليا اور منجملہ افادات امام بخاری کے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح میں پانچ حدیثیں ذکر کر کے متفرق طرق اور متفرق راویوں کے ذریعہ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسیح ابن مریم اپنی موت کے بعد اموات میں جاملا اور خدا تعالیٰ کے بزرگ نبی جو اس دنیا سے گذر چکے ہیں