ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 528
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۸ ازالہ اوہام حصہ دوم بچے جوشوں کے ساتھ انہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اُٹھا ئیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں۔ میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور اُن کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے 29) کے لئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو اُن کے حق میں الہام ہوا تھا اصلہ ثابت وفرعه في السماء ۔ وہ اس مسافر خانہ میں محض متوکلانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اپنے اوائل ایام میں وہ بیس برس تک انگریزی دفتر میں سرکاری ملازم رہے مگر باعث غربت و درویشی کے اُن کے چہرہ پر نظر ڈالنے سے ہرگز خیال نہیں آتا کہ وہ انگریزی خواں بھی ہیں لیکن دراصل وہ بڑے لائق اور مستقیم الاحوال اور دقیق الفہم ہیں مگر با ایں ہمہ سادہ بہت ہیں اسی وجہ سے بعض موسوسین کے وساوس اُن کے دل کو غم میں ڈال دیتے ہیں لیکن ان کی قوت ایمانی جلد ان کو دفع کر دیتی ہے۔ (۱۰) حبسى فى الله منشی احمد جان صاحب مرحوم ۔ اس وقت ایک نہایت غم سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ پُر در دقصہ مجھے لکھنا پڑا کہ اب یہ ہمارا پیارا دوست اس عالم میں موجود نہیں ہے اور خداوند کریم و رحیم نے بہشت بریں کی طرف بلا لیا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون و انا بفراقه لمحزونون - حاجی صاحب مغفور و مرحوم ایک جماعت کثیر کے پیشوا تھے اور اُن کے مُریدوں میں آثار رُشد و سعادت و اتباع سنت نمایاں ہیں۔ اگر چہ حضرت ۷۹۲ موصوف اس عاجز کے شروع سلسلہ بیعت سے پہلے ہی وفات پاچکے لیکن یہ امران کے خوارق میں سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بیت اللہ کے قصد سے چند روز پہلے اس عاجز کو ایک خط ایسے انکسار سے لکھا جس میں انہوں نے در حقیقت اپنے تئیں اپنے دل میں سلسلہ بیعت میں داخل کر لیا۔ چنانچہ انہوں نے اس میں سیرت صالحین پر اپنا تو بہ کا اظہار کیا اور اپنی مغفرت کے لئے دعا چاہی اور لکھا کہ میں آپ کی لکھی ربط کے زیر سایہ اپنے تئیں سمجھتا ہوں اور پھر لکھا کہ میری زندگی کا