ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 529 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 529

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۹ ازالہ اوہام حصہ دوم نہایت عمدہ حصہ یہی ہے کہ میں آپ کی جماعت میں داخل ہو گیا ہوں۔ اور پھر کسر نفسی کے طور پر اپنے گذشتہ ایام کا شکوہ لکھا اور بہت سے رقت آمیز ایسے کلمات لکھے جن سے رونا آتا تھا۔ اس دوست کا وہ آخری خط جو ایک دردناک بیان سے بھرا ہے اب تک موجود ہے مگر افسوس کہ حج بیت اللہ سے واپس آتے وقت پھر اس مخدوم پر بیماری کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ اس دور افتادہ کو ملاقات کا اتفاق نہ ہوا بلکہ چند روز کے بعد ہی وفات کی خبر سنی گئی اور خبر سنتے ہی ایک جماعت کے ساتھ قادیان میں نماز جنازہ پڑھی گئی۔ حاجی صاحب مرحوم اظہار حق میں بہادر آدمی تھے۔ بعض نافہم لوگوں نے حاجی صاحب موصوف کو اس عاجز کے (۷۹۳) ساتھ تعلق ارادت رکھنے سے منع کیا کہ اس میں آپ کی کسرشان ہے لیکن انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی شان کی پروا نہیں اور نہ مریدوں کی حاجت۔ آپ کا صاحبزادہ کلاں حاجی افتخار احمد صاحب آپ کے قدم پر اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص رکھتے ہیں اور آثار رشد و صلاح و تقویٰ اُن کے چہرہ پر ظاہر ہیں۔ وہ باوجود متو گلا نہ گزارہ کے اول درجہ کی خدمت کرتے ہیں اور دل و جان کے ساتھ اس راہ میں حاضر ہیں خدائے تعالیٰ ان کو ظاہری اور باطنی برکتوں سے متمتع کرے۔ (۱۱) حتى فى الله قاضی خواجہ علی صاحب ۔ قاضی صاحب موصوف اس عاجز کے ایک منتخب دوستوں میں سے ہیں ۔ محبت و خلوص و وفا وصدق وصفا کے آثار اُن کے چہرہ پر نمایاں ہیں۔ خدمت گزاری میں ہر وقت کھڑے ہیں ۔ وہ اُن اولین سابقین میں سے ہیں جن میں سے اخویم میر عباس علی صاحب ہیں ۔ وہ ہمیشہ خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ایام سکونت لودھیانہ میں جو چھ چھ ماہ تک بھی اتفاق ہوتا ہے ایک بڑا حصہ (۷۹۴) مہمانداری کا خوشی کے ساتھ وہ اپنے ذمے لے لیتے ہیں اور جہاں تک اُن کے قبضہ قدرت میں ہے وہ ہمدردی اور خدمت اور ہر یک قسم کی غمخواری میں کسی بات سے فرق