ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 527
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۷ ازالہ اوہام حصہ دوم اسی قدر بلکہ جو کچھ نا جائز خیالات اور اوہام اور بے اصل بدعات شیعہ مذہب میں ملائی گئی ہیں اور جس قدر تہذیب اور صلاحیت اور پاک باطنی کے مخالف ان کا عملدرآمد ہے ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کر کے انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ وہ اپنے ایک خط میں مجھ کو لکھتے ہیں کہ ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے موید نہیں ہیں بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں مگر الہامات کے بارہ میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔ پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور اُن پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے ۔ تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لودھیانہ ملنے گیا تو اُس وقت میری تسکین خوب ہو گئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کا پھر بعد کی خط و کتابت میں میرے دل سے بکلی دھویا گیا۔ 290 ) اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسر شان نہ کرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو سکتا ہے تب میں نے آپ سے بیعت کر لی۔ اب میں اپنے آپ کو نسبتا بہت اچھا پاتا ہوں۔ اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے لئے تو بہ کی ہے۔ مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ ایک بچے مجد داور دنیا کے لئے رحمت ہیں۔ (۹) حتى فى الله میر عباس علی لود بانوی ۔ یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں جن کے دل میں خدائے تعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اُٹھا کر ابرارا خیار کی سنت پر بقدم تجرید محض اللہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے وہ یہی بزرگ ہیں۔ میں اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ بڑے