ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 504
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۰۴ ازالہ اوہام حصہ دوم اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے قصوں میں قرآن شریف کی کسی عبارت سے نہیں نکلتا کہ فی الحقیقت کوئی مردہ زندہ ہو گیا تھا اور واقعی طور پر کسی قالب میں جان پڑ گئی تھی بلکہ اس آیت پر نظر غور کرنے سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے ایک خون کر کے چھپادیا تھا اور بعض بعض پر خون کی تہمت لگاتے تھے ۔ سوخدائے تعالی نے اصل مجرم کے پکڑنے کے لئے یہ تدبیر سمجھائی تھی کہ تم ایک گائے کو ذبح کر کے اس کی بوٹیاں اس لاش پر مارو۔ اور وہ تمام اشخاص جن پر شبہ ہے ان بوٹیوں کو نوبت به نوبت اس لاش پر ماریں ۔ تب اصل خونی کے ہاتھ سے جب لاش پر بوٹی لگے گی تو لاش سے ایسی حرکات صادر ہوں گی جس سے خونی پکڑا جائے گا۔ اب اس قصہ سے واقعی طور پر لاش کا زندہ ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا ۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف ایک دھمکی تھی کہ تا چور بیدل ہو کر اپنے تئیں ظاہر کرے لیکن ایسی تاویل سے عالم الغیب کا عجز ظاہر ہوتا ہے اور ایسی تاویلیں وہی لوگ کرتے ہیں کہ جن کو عالم ملکوت ۷۵۰) کے اسرار سے حصہ نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق علم عمل الترب یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا جس کے بعض خواص میں سے یہ بھی ہے کہ جمادات یا مردہ حیوانات میں ایک حرکت مشابه بحرکت حیوانات پیدا ہو کر اس سے بعض مشتبہ اور مجہول امور کا پتہ لگ سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی سچائی کو ضائع نہ کریں اور ہر ایک وہ حقیقت یا خاصیت جو عین صداقت ہے اس کو خدائے تعالی کی طرف سے سمجھیں ۔ علم عمل الترب ایک عظیم الشان علم ہے جو طبیعی کا ایک روحانی حصہ ہے جس میں بڑے بڑے خواص اور عجائبات پائے جاتے ہیں۔ اور اس کی اصلیت یہ ہے کہ انسان جس طرح باعتبار اپنے مجموعی وجود کے تمام چیزوں پر خلیفہ اللہ ہے اور سب چیزیں اس کے تابع کر دی گئی ہیں اسی طرح انسان جس قدر اپنے اندر انسانی قومی رکھتا ہے تمام چیزیں ان قومی کی اس طرح پر تابع ہیں کہ شرائط مناسبہ کے ساتھ ان کا اثر قبول کر لیتی ہیں ۔ انسان قوت فاعلہ کے ساتھ