ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 505 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 505

روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم دنیا میں بھیجا گیا ہے اور دوسری چیز میں قوت منفعلہ رکھتی ہیں۔ ادنی اثر انسان کی قوت فاعلہ کا یہ ہے کہ ہر یک جاندار اس سے ایسا ہل سکتا ہے کہ اس کے خادموں میں اپنے تئیں شمار کر لیتا ہے اور اس کا مسخر ہو جاتا ہے۔ فطرت نے جن انسانوں کو قوت فاعلہ کا بہت سا حصہ دیا ہے ﴿۷۵۱﴾ اُن سے عمل الترب کے عجیب عجیب خواص ظاہر ہوتے ہیں۔ در حقیقت انسان ایک ایسا جانور ہے کہ اس کے ظاہری اور باطنی قومی ترقی دینے سے ترقی پذیر ہو سکتے ہیں اور ان کی قوت فاعلی کا اثر بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً جن لوگوں کو ہمارے ملک میں ڈائن کہتے ہیں ان کی صرف اس قدر حقیقت ہے کہ ان کی زہریلی نظر سے ضعیف اتخلقت لوگ بچے وغیرہ کسی قدر متاثر ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی زہریلی نظر سے درندوں کو مغلوب اور متاثر کر کے آسانی سے اُن کا شکار کر لیتے ہیں۔ بعض اپنے تصورات تربی مشق کی وجہ سے دوسرے کے دل میں ڈال دیتے ہیں ۔ بعض اپنی کیفیت ذوقی کا اثر اسی عمل کے زور سے دوسرے کے دل تک پہنچا سکتے ہیں۔ بعض بے جان چیزوں پر اثر ڈال کر ان میں حرکت پیدا کر دیتے ہیں۔ چنانچہ زمانہ حال میں بھی ان باتوں میں مشق رکھنے والے بہت نظر آتے ہیں۔ بعض کئے ہوئے سربکری وغیرہ کے عمل الترب کے زور سے ایسی حرکت میں لاتے ہیں کہ وہ ناچتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض عمل الترب کے زور سے چوروں کا پتہ لگا لیتے ہیں۔ قرآن شریف یا لوٹے کو حرکت دے ۷۵۲ کر جو چور کا پتہ نکالتے ہیں حقیقت میں یہ عمل الترب کی ایک شاخ ہے۔ اگر چہ اس کی شرائط ضروریہ کے نہ پائے جانے کی وجہ سے غلطی واقع ہو ۔ چنانچہ اسی وجہ سے بکثرت غلطی واقع ہوتی بھی ہے لیکن یہ غلطی اس عمل کی عزت اور عظمت کو گھٹا نہیں سکتی کیونکہ بہت سے تجارب صحیحہ سے اس کی اصلیت ثابت ہو چکی ہے۔ بے شک انسانی حیات اور شعور کا اثر دوسری چیزوں پر بھی پڑسکتا ہے اور انسان کی قوت کشفی کا پر تو ہ جمادات یا کسی مردہ حیوان پر پڑ کر اس کو بعض مجہولات کے استکشاف کا آلہ بنا سکتا ہے۔ چنانچہ قضیہ مذکورہ بالا جس کا