ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 503 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 503

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۰۳ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ اُن کو مسیح کے فوت ہونے کے بعد زندہ اُٹھائے جانے پر بڑا اصرار ہے ہرگز یہ دعوی نہیں کرتے کہ وہ آسمانوں میں دنیوی زندگی سے عمر بسر کرتے ہیں بلکہ محض موسیٰ اور داؤ داور دوسرے نبیوں کی زندگی کی مانند مسیح کی زندگی خیال کرتے ہیں کیونکہ مسیح کو خود اس بات کا اقرار ہے۔ اس جگہ یہ بھی ظاہر رہے کہ توفی کے معنے وفات دینے کے صرف اجتہادی طور پر ہم نے معلوم نہیں کئے بلکہ مشکوۃ کے باب الحشر میں بخاری اور مسلم کی حدیث جو ابن عباس سے ہے صریح اور صاف طور پر اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی یہی تفسیر فرماتے ہیں کہ در حقیقت اس سے وفات ہی مراد ہے بلکہ اسی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ سوال حضرت مسیح سے عالم برزخ میں اُن کی وفات کے بعد کیا گیا تھا نہ یہ کہ (۷۴۸) قیامت میں کیا جائے گا۔ پس جس آیت کی تفسیر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی کھول دیا پھر اگر کوئی تفسیر نبوی کو بھی سن کر شک میں رہے تو اس کے ایمان اور اسلام پر اگر افسوس اور تعجب نہ کریں تو اور کیا کریں۔ دیکھو اس حدیث کو امام بخاری انہیں معنوں کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے اپنی صحیح کی کتاب التفسیر میں لایا ہے۔ دیکھو صفحہ ۶۶۵ بخاری۔ بعض صاحب ان سب دلائل شافیہ کو سن کر حضرت مسیح کی وفات کے قائل تو ہو جاتے ہیں مگر پھر وہ دوبارہ یہ وہم پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان کو زندہ کر کے پھر قبر میں سے اُٹھاوے۔ ہم اس وہم کے جواب میں کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں وعدہ کر چکا ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مر چکا اور واقعی موت جو اس کے لئے مقدر تھی اس پر وارد ہو چکی پھر دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا اور نہ دنیا میں دو موتیں اُس پر وارد کی جائیں گی ۔ اس جواب کے سننے کے بعد پھر وہ ایک اور و ہم پیش کرتے ہیں کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض مردے زندہ ہو گئے جیسے وہ مُردہ جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا لیا تھا جس کا ذکر اس آیت میں ہے واذ (۷۴۹) قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَاذْرَعْتُمْ فِيهَا وَاللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ لا البقرة :۷۳